Showing posts with label محبت شاعری. Show all posts
Showing posts with label محبت شاعری. Show all posts

Thursday, 26 September 2013

پھر رفتہ رفتہ تم سے محبت سی ھو گئی


ہر شام تم سے ملنے کی عادت سی ھو گئی
پھر رفتہ رفتہ تم سے محبت سی ھو گئی

شاید یہ تازہ تازہ جُدائی کا اثر تھا
ہر شکل یک بہ یک تیری صورت سی ھو گئی

اِک نام جھلملانے لگا دل کی طاق پر
اِک یاد جیسے باعثِ راحت سی ھو گئی

خود کو سجا سنوار کے رھنے کا شوق تھا
پھر اپنے آپ سے نفرت سی ھو گئی

میں نے کوئی بیانِ صفائی نہیں دیا
بس چُپ رھے تو خُود ہی وضاحت سی ھو گئی۔ 

Monday, 9 September 2013

محبت ایک دیمک ہے


محبت ایک دیمک ہے
جو کھا جاتی ہے سب کچھ یوں 
کہ جیسے شب سِیہ کوئی
گناہوں کو نگل جائے
یا جوں دنیا کے اندھے لوگ
دنیا کو ڈبوتے ہیں
دکھوں کا بیج بوتے ہیں
محبت ایک دیمک ہے
کہ جس دل میں اتر جائے 
اسے تو خار دیتی ہے
کسی صحرا میں لے جا کر
پیاسا مار دیتی ہے
خبر اس کی نہیں ہوتی
کہ کب یہ گھیر لے کس کو
اسے نہ زندگی سمجھو
سفر دشوار ہے اس کا
سرابِ زندگی سمجھو
محبت ایک دیمک ہے
مجھے بھی یہ لگی تھی جب
اسے دل میں بسایا تھا
حیاتِ جاوداں سمجھا
اسے اپنا بنایا تھا
کہ اب تو یوں یہ جیتی ہے
مجھے مردہ بنا کر بس
جگر کا خون پیتی ہے
جگر کا خون پیتی ہے

Tuesday, 6 August 2013

وعدہ




مرا یہ وعدہ ہے تم سے
تمہیں اتنا میں چاہوں گا
کہ دنیا میں کہیں پر بھی
محبت کے حوالے سے کبھی
کبھی جو بات نکلے گی
ہمارا نام آئے گا۔۔۔۔

Sunday, 4 August 2013

پڑھی ہے میں نے محبت کی یہ کتاب بہت


سوال ایک تھا، لیکن مِلے جواب بہت
پڑھی ہے میں نے محبت کی یہ کتاب بہت

گئی بہار تو پھر کون حال پوچھے گا
کرو نہ چاہنے والوں سے اِجتناب بہت

یہ آسمان و زمیں سب تمہیں مبارک ہوں
مرے لئے ہے یہ ٹُوٹا ہوا رباب بہت

یہاں پہ دیکھو ذرا اِحتیاط سے رہنا
مِلے ہیں پہلے بھی اس خاک میں گُلاب بہت

میں جانتا ہوں انہیں، وقت کے حواری ہیں
جو لوگ خُود کو سمجھتے ہیں کامیاب بہت

رہِ جنوں میں اکیلا نہیں میں خوار و زبُوں
مری طرح سے ہوئے ہیں یہاں خراب بہت

کسی نے کاسۂ سائل میں کچھ نہیں ڈالا
سمندروں سے میں کرتا رہا خطاب بہت

کُھلی ہوئی ہیں دُکانیں کئی نگاہوں کی
طلب ہو دل میں تو پینے کو ہے شراب بہت

خدا کرے وہ مرا آفتاب آ نکلے
دلوں میں آگ لگاتا ہے ماہتاب بہت

سُنا کے قصّہ تمہیں کس لئے اُداس کریں
کہ ہم پہ ٹُوٹے ہیں اس طرح کے عذاب بہت

تلاشِ یار میں نکلے تھے جاں سے ہار گئے
خبر نہ تھی کہ وہ ظالم ہے دیریاب بہت

کبھی وہ بُھول کے بھی اس طرف نہیں آیا
اگرچہ آتے ہیں آنکھوں میں اُس کے خواب بہت

اسی لئے ترے کُوچہ میں اب وہ بِھیڑ نہیں
کہ لُطف کم ہے تری آنکھ، میں عتاب بہت

یہاں رہے گا ترے اِقتدار کو خطرہ
کہ آتے رہتے ہیں اس دل میں اِنقلاب بہت

کسی کو بھیج کے احوال تو کیا معلوم
مرے لئے تو یہی لُطف ہے جناب بہت

Thursday, 2 May 2013

محبت دل پہ دستک دے تو آنے دو


محبت کو نہ جانے دو
اگر تم چاروں جانب غور سے دیکھو
تو تم کو یہ خبر ہو گی
زمانہ ایک مٹھی خاک سے بڑھ کر نہیں جاناں!
اگر آنکھوں میں ڈالو گے،
تو بینائی گنواؤ گے
اگر دل میں سنبھالو گے، تو تم جینے سے جاؤ گے
زمانہ ایک مُٹھی خاک سے بڑھ کر نہیں جاناں!
چھوؤ تو ہاتھ میلے ہوں
چلو اس پر، تو دونوں پیر چھالے ہوں
ہوس نے جال چاروں سمت ڈالے ہیں،
اور اس کے روگ کالے ہیں
سنبھل کر جو چلے، مانو مقدر کا سکندر ہے
زمانہ ایک مٹھی خاک سے بڑھ کر نہیں جاناں!
مگر اس خاک میں جب دل کی آنکھوں سے کوئی دیکھے
تو اِ انمول ہیرا، سامنے اپنے وہ پائے گا
ہزاروں چاند سے بڑھ کر اُجالے لے کے آئے گا
اُسے حیران کر دے گا
بڑی سےہو بڑی مشکل، اُسے آسان کر دے گا
!اُسی انمول ہیرے کا محبت نام ہے جاناں
محبت دل پہ دستک دے تو آنے دو
محبت کو نہ جانے دو
مقدر سے اگر تم یہ مل جائے، گنوانا مت
اُسے مٹھی میں بند رکھنا، گِرانا مت
یہ وہ دولت ہے جو اک بار
گُم ہو کر نہیں ملتی
یہ ہو خوشبو ہے جو ہر پھول کے در پہ نہیں جاتی
محبت جب چلی جائے کبھی واپس نہیں آتی
محبت کو نہ جانے دو


Tuesday, 26 March 2013

ﻣﺤﺒﺖ ﭨﮭﮩﺮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ


ﻣﺤﺒﺖ ﭨﮭﮩﺮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﮨﻢ ﺍﻛﺜﺮ ﻳﻪ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍُﺳﮯ ﻫﻢ ﺑُﻬﻮﻝ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﮕﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
ﻣﺤّﺒﺖ ﺩﺍﺋﻤﯽ ﺳﭻ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﭨﮭﮩﺮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ
ﻣﺤﺒﺖ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺫﺍﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ
ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ
ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﮐﮫ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ
ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣﯿﮟ
ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﺳﮯ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ
ﮐﺒﮭﯽ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﯽ ﭨﮭﻨﮉﮎ ﻣﯿﮟ
ﺍُﺩﺍﺳﻰ ﻛﻰ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣﯿﮟ
ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ
ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺏِ ﺭﻭﺍﮞ ﺑﻦ ﮐﺮ
ﮐﺒﮭﯽ ﻗﻄﺮﮮ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ
ﺑﻈﺎﮬﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺳﮯ ﮨﻢ ﺑﮭﻮﻝ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﮕﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
ﯾﮧ ﮨﺮ ﮔﺰ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ
ﻣﺤﺒﺖ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ
!ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺫﺍﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ


دل کی ناؤ


سنو جاناں
محبت رُت میں لازم ہے
بہت عجلت میں یا تاخیر سے وہ مرحلہ آئے
کوئی بے درد ہوجائے
محبت کی تمازت سے بہت بھرپور سا لہجہ
اچانک سرد ہوجائے
گلابی رت کی چنچل اوڑھنی بھی زرد ہوجائے
تو ایسے موڑ پر ڈرنا نہیں، رکنا نہیں، گھبرا نہیں جانا
غضب ڈھاتی ہوئی سفاک موجوں سے
کسی بھی سرخ طوفاں سے
بہت نازک سی، بے پتوار دل کی ناؤ کو اس پل
ہمیں دوچار کرنا ہے
ہمارا عہد ہے خود سے
کسی قیمت پہ بھی ہم کو 
سمندر پار کرنا ہے


محبت آج روتی ہے


محبت حرفِ اول ہے
محبت حرفِ آخر ہے
یہ ہے اک ایسا جذبہ جو
ظہور اپنے میں ماہر ہے
زمانے میں اداسی بھی
محبت بانٹ سکتی ہے
کسی کے دل سے نفرت کو
محبت چھانٹ سکتی ہے


محبت باوفا بھی ہے
محبت دل ربا بھی ہے
محبت کرنے والوں کو
محبت سے گلہ بھی ہے
محبت میں جو ہوتے ہیں
گلے وہ سب محبت ہیں
لگن چاہت وفاداری
یہ سارے ڈھب محبت ہیں
محبت آن جیسی ہے
محبت مان جیسی ہے
محبت پھول جیسی ہے
محبت جان جیسی ہے
محبت جان لیتی ہے
محبت جان دیتی ہے
محبت سرفروشی کو
ہمیشہ مان لیتی ہے

محبت اک تبسّم ہے
جو پھولوں میں بھی کھلتا ہے
کبھی تتلی کے پنکھوں میں
کبھی ممتا میں ملتا ہے
محبت سانس لیتی ہے
محبت دیکھ سکتی ہے
محبت ساتھ چلتی ہے
محبت رہ بدلتی ہے
کسی کی شادمانی کو
محبت سوچ سکتی ہے
یہ ساری زندگانی کے
غموں کو نوچ سکتی ہے
محبت اک نگینہ ہے
یہ جینے کا قرینہ ہے
نہیں جو ڈوبنے پاتا
محبت وہ سفینہ ہے

جہاں کے سب مذاہب میں
محبت کا تقدّس ہے
یہی انساں کے جذبوں میں
عطا سب سے مقدس ہے
محبت کا یہ جذبہ اب
بڑا پامال ہوتا ہے
یہ جس کے دل میں بس جائے
بہت بے حال ہوتا ہے
محبت کل بھی ہوتی تھی
محبت اب بھی ہوتی ہے
مگر اپنے مقدر پر 
محبت آج روتی ہے


محبت


محبت اس طرح جیسے گلابی تِتلیوں کے پر
محبت زندگی کی جبینِ ناز کا جُھومر
محبت آرزو کی سیپ کا انمول سا گوہر
محبت آس کی دھوپ میں امید کی چادر
تیرے گیسُو
تیری پلکیں
تیری آنکھیں
محبت ہے تیری باتیں
محبت ہے تمھارے ہجر کی اور وصل کی راتیں
محبت ہے تیری دھڑکن
محبت ہے میری سانسیں
محبت میری خاموشی 
تمھاری بات جیسی ہے
محبت کو اگر سمجھو تو
اپنی ذات جیسی ہے


Monday, 25 March 2013

محبّت چیز ایسی ہے


محبّت چیز ایسی ہے


کبھی ہوتی ہے اپنوں سے
کبھی ہوتی ہے سپنوں  سے
کبھی انجان راہوں سے 
کبھی گمنام ناموں سے 

محبّت چیز ایسی ہے 

کبھی ہوتی ہے پھولوں سے 
کبھی بچپن کے جھولوں سے 
کبھی بے -اختیاری میں 
کبھی پکے اصولوں سے 

محبّت چیز ایسی ہے 

محبّت تو محبّت ہے 
محبّت ایک صداقت ہے 
محبّت ایک عبادت ہے 

محبّت چیز ایسی ہے

دکھوں میں رول دیتی ہے 
درد انمول دیتی ہے 
زہر بھی گھول دیتی ہے 
محبّت چیز ایسی ہے

یہ محبّت بھی عجیب تقسیم کے موسم میں ہے


یہ محبّت بھی عجیب تقسیم کے موسم میں ہے
سارا جذبہ اُس طرف ہے صرف لہجہ اِس طرف

ایک ہلکی سی چُبھن احساس کو گھیرے رہی
گفتگو میں جب تُمھارا ذِکر آیا اِس طرف

صرف آنکھیں کانچ کی باقی بدن پتَھر کا ہے
لڑکیوں نےِ کس طرح دھارا رُوپ اِس طرف

کِس طرح کے لوگ ہیں یہ کُچھ پتہ چلتا نہیں
کون کِتنا اُس طرف ہے کون کتنا اِس طرف

محبت مربھی سکتی ہے



جسے تم زندگی جانو
تمھیں وہ روگ کہتا ہو
کہ جس نے خو د ہی چاہت سے
تمھارا ہاتھ تھاما ہو
وہ اپنے دل کے دروازے
تمھی پر بند کردے تو
محبت مر بھی سکتی ہے
تمھیں سنگسار کرنے کو
جو سنگ بانٹے لوگوں میں
صبا کو روکنے کو قفل ڈالے دریچوں میں
کرکے بند گھر کو
سانس پر پہرے لگائے تو
محبت مر بھی سکتی ہے
یہ کس نے کہہ دیا تم سے
محبت مر نہیں سکتی
کہ جب کوئی تمھیں جاں سے گزرجانے کو کہتا ہو
آدھی راہ میں خود ہی مڑجانے کو کہتا ہو
وہ اپنی بےوفائی کا خود ہی اعتراف کرلے تو
محبت مربھی سکتی ہے

محبت ہو بھی سکتی تھی


اگر یہ فاصلہ جو درمیاں ہے دور ہو جاتا
ترا ہنسنا ترا  رونا مجھے مقدور ہوجاتا
تو تم سے بات کرنے کے کئی امکان ہو جاتے 
جو 
باہم رابطے مشکل ہیں وہ آسان ہو جاتے
مرے دل میں کمی سی ہے ہمیشہ ساتھ رہتی ہے
اگر تم پاس رہتے تو-------
محبت ہو بھی سکتی تھی

محبت ھو بھی سکتی ھے




پگھل پتھر بھی سکتے ہیں
الٹ دریا بھی سکتا ھے
کوئی آوارہ سا پنچھی
پلٹ کر آ بھی سکتا ھے
کہ جو شب مجھ پر ہنستی ھے
وہی شب رو بھی سکتی ھے
محبت ھو بھی سکتی ھے
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets