😊 I love poetry and specially Urdu poetry. I am here to share my favourite poetry with you. I hope you like it and please don't forget to show your love by liking, commenting and following the blog. 😊
Showing posts with label ساغر صدیقی. Show all posts
Showing posts with label ساغر صدیقی. Show all posts
Wednesday, 23 September 2015
Tuesday, 4 August 2015
محبت کے مزاروں تک چلیں گے
محبت کے مزاروں تک چلیں گے
ذرا پی لیں! ستاروں تک چلیں گے
ذرا پی لیں! ستاروں تک چلیں گے
سنا ہے یہ بھی رسم عاشقی ہے
ہم اپنے غمگساروں تک چلیں گے
ہم اپنے غمگساروں تک چلیں گے
چلو تم بھی! سفر اچھا رہے گا
ذرا اجڑے دیاروں تک چلیں گے
ذرا اجڑے دیاروں تک چلیں گے
جنوں کی وادیوں سے پھول چن لو
وفا کی یادگاروں تک چلیں گے
وفا کی یادگاروں تک چلیں گے
حسین زلفوں کے پرچم کھول دیجیے
مہکتے لالہ زاروں تک چلیں گے
مہکتے لالہ زاروں تک چلیں گے
چلو ساغر کے نغمے ساتھ لے کر
چھلکتی جوئے باراں تک چلیں گے
چھلکتی جوئے باراں تک چلیں گے
Friday, 17 April 2015
حقیقت کو بنا دیتی ہیں افسانے تری آنکھیں
متاع کوثر و زمزم کے پیمانے تری آنکھیں
فرشتوں کو بنا دیتی ہیں دیوانے تری آنکھیں
جہان رنگ و بو الجھا ہوا ہے ان کے ڈوروں میں
لگی ہیں کاکل تقدیر سلجھانے تری آنکھیں
اشاروں سے دلوں کو چھیڑ کر اقرار کرتی ہیں
اٹھاتی ہیں بہارِ نو کے نذرانے تری آنکھیں
وہ دیوانے زمام لالہ و گل تھام لیتے ہیں
جنہیں منسوب کر دیتی ہیں ویرانے تری آنکھیں
شگوفوں کو شراروں کا مچلتا روپ دیتی ہیں
حقیقت کو بنا دیتی ہیں افسانے تری آنکھیں
Friday, 20 September 2013
Wednesday, 8 May 2013
ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں
ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں
ورنہ ان تاروں بھری راتوں میں کیا ہوتا نہیں
جی میں آتا ہے الٹ دیں انکے چہرے کا نقاب
حوصلہ کرتے ہیں لیکن حوصلہ ہوتا نہیں
شمع جسکی آبرو پر جان دے دے جھوم کر
وہ پتنگا جل تو جاتا ہے ، فنا ہوتا نہیں
اب تو مدت سے رہ و رسم نظارہ بند ہے
اب تو انکا طور پر بھی سامنا ہوتا نہیں
ہر شناور کو نہیں ملتا طلاطم سے خراج
ہر سفینے کا محافظ ناخدا ہوتا نہیں
ہر بھکاری پا نہیں سکتا مقامِ خواجگی
ہر کس و ناکس کو تیرا غم عطا ہوتا نہیں
ہائے یہ بیگانگی اپنی نہیں مجھکو خبر
ہائے یہ عالم کہ تُو دل سے جُدا ہوتا نہیں
Friday, 3 May 2013
آتشِ عشق میں پتھر بھی پگھل جاتے ہیں
صحنِ کعبہ بھی یہیں ہے تو صنم خانے بھی
دل کی دنیا میں گلستان بھی ہیں ویرانے بھی
لوگ کہتے ہیں اجارہ ہے ترے جلووں پر
اتنے ارزاں تو نہیں ہیں ترے دیوانے بھی
آتشِ عشق میں پتھر بھی پگھل جاتے ہیں
مجرم سوز وفا شمع بھی پروانے بھی
کچھ فسانوں میں حقیقت کی جھلک ہوتی ہے
کچھ حقیقت سے بنا لیتے ہیں افسانے بھی
میرے اشعار ہیں تصویرِ تمنا ساغر
ان کی آغوش میں ہیں درد کے افسانے بھی
Monday, 11 February 2013
دور تک کوئی ستارہ ہے نہ جگنو کوئی
یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
ان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں
تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیں
ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں
دور تک کوئی ستارہ ہے نہ جگنو کوئی
مرگ امید کے آثار نظر آتے ہیں
میرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں
آپ پھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں
کل جنھیں چھونہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں
حشر میں کون گواہی میری دے گا ساغر
سب تمہارے ہی طرف دار نظر آتے ہیں
Saturday, 12 January 2013
تعزیریں عِشق کی
میرے تصوّرات ھیں تحریریں عشق کی
زندانیِ خیال ھیں زنجیریں عشق کی
تعبیرِ حُسن ھے دلِ مجروح کا لہُو
چھینٹے پڑے تو بن گئیں تصویریں عشقِ کی
داغِ فراق، زخمِ وفا، اشکِ خُوں فِشاں
روزِ ازل سے ھیں یہی جاگیریں عِشق کی
شام خزاں کو صُبحِ بہاراں بنا دیا
ترتیب زیست بن گئیں تعزیریں عِشق کی
ساغرجہانِ شوق میں دیکھی ھے جاوداں
اہلِ نظر کے سامنے تفسیریں عِشق کی
Thursday, 8 November 2012
میرے دل ناداں سے کچھ بھول ہوئی ہے
برگشتہء یزداں سے کچھ بھول ہوئی ہے
بھٹکے ہوئے انساں سے کچھ بھول ہوئی ہے
تاحّد نظر شعلے ہی شعلے ہیں چمن میں
پھولوں کے نگہباں سے کچھ بھول ہوئی ہے
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے
ہنستے ہیں مری صورت مفتوں پہ شگوفے
میرے دل ناداں سے کچھ بھول ہوئی ہے
حوروں کی طلب اور مئے و ساغر سے ہے نفرت
زاہد! ترے عرفاں سے کچھ بھول ہوئی ہے
Friday, 19 October 2012
بھولی ہوئی صدا ھوں مجھے یاد کیجیے
بھولی ہوئی صدا ھوں مجھے یاد کیجیے
تم سے کہیں ملا ھوں مجھے یاد کیجیے
منزل نہیں ھوں خضر نہیں راہزن نہیں
منزل کا راستہ ھوں مجھے یاد کیجیے
میری نگاہ شوق سے ہر گل ھے دیوتا
میں عشق کا خدا ھوں مجھے یاد کیجیے
نغموں کی ابتدا تھی کبھی میرے نام سے
اشکوں کی انتہا ھوں مجھے یاد کیجیے
گم صم کھڑی ھیں دونوں جہاں کی حقیقتیں
میں ان سے کہہ رھا ھوں مجھے یاد کیجیے
ساغر کسی کے حسن تغافل شعار کی
بہکی ھوئی ادا ھوں مجھے یاد کیجیے
Wednesday, 29 August 2012
جھلملاتے ہوئے اشکوں کی لڑی ٹوٹ گئی
محفلیں لُٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا
ساز خاموش ہیں نغمات نے دم توڑ دیا
ہر مسرت غمِ دیروز کا عنوان بنی
وقت کی گود میں لمحات نے دم توڑ دیا
اَن گِنت محفلیں محرومِ چراغاں ہیں ابھی
کون کہتا ہے کہ ظلمات نے دم توڑدیا
اَن گِنت محفلیں محرومِ چراغاں ہیں ابھی
کون کہتا ہے کہ ظلمات نے دَم توڑدیا
آج پھر بُجھ گئے جَل جَل کے امیدوں کے چراغ
آج پھر تاروں بھری رات نے دَم توڑدیا
جن سے افسانۂ ہستی میں تسلسل تھا کبھی
اُن محبّت کی روایات نے دم توڑدیا
جھلملاتے ہوئے اشکوں کی لڑی ٹوٹ گئی
جگمگاتی ہوئی برسات نے دم توڑ دیا
ہائے آدابِ محبّت کے تقاضے ساغر
لب ہلے اور شکایات نے دم توڑدیا
رُودادِ محبّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کچھ بھول گئے
رُودادِ محبّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کچھ بھول گئے
دو دِن کی مُسرّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے
جب جام دیا تھا ساقی نے جب دور چلا تھا محفل میں
اِک ہوش کی ساعت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گیے
اب وقت کے نازک ہونٹوں پر مجروح ترنّم رقصاں ہے
بیدادِ مشیّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بُھول گئے
احساس کے میخانے میں کہاں اَب فکر و نظر کی قندیلیں
آلام کی شِدّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے
کُچھ حال کے اندھے ساتھی تھے کُچھ ماضی کے عیّار سجن
احباب کی چاہت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے
کانٹوں سے بھرا ہے دامنِ دِل شبنم سے سُلگتی ہیں پلکیں
پُھولوں کی سخاوت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے
اب اپنی حقیقت بھی ساغر بے ربط کہانی لگتی ہے
دُنیا کی کی حقیقت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے
Subscribe to:
Posts (Atom)
!-end>!-currency>
