Showing posts with label سلیم کوثر. Show all posts
Showing posts with label سلیم کوثر. Show all posts

Wednesday, 29 April 2015

سب محبت کا اک پہر ہے



یہ جو پلکوں پہ رِم جھِم ستاروں کا میلہ سا ہے​

یہ جو تیرے بنا کوئی اتنا اکیلا سا ہے​

زندگی تیری یادوں سے مہکا ہوا شہر ہے​

سب محبت کا اک پہر ہے



ساحلوں پہ گھروندے بنائے تھے ہم نے، تمہیں یاد ہے

رنگ بارش میں کیسے اڑائے تھے ہم نے، تمہیں یاد ہے

جانے کس کے لیے گھر سجائے تھے ہم نے، تمہیں یاد ہے

​کوئی خوشبو کا جھونکا ادھر آ نکلتا کہیں​

گم ہے نیندوں کے صحرا میں خوابوں کا رستہ کہیں​

ہر خوشی آتے جاتے ہوئے وقت کی لہر ہے​



زندگی دھوپ چھاؤں کا اک کھیل ہے، بھیڑ چھَٹتی نہیں​

اور اسی کھیل میں دن گزرتا نہیں، رات کٹتی نہیں​

پیار کرتے ہوئے آدمی کی عمر، کبھی گھٹتی نہیں​

​دل کی دہلیز پر عکسِ روشن تیرے نام سے​

رت جگے آئینوں میں کھلے ہیں کہیں شام سے​

ایک دریا ہے چاروں طرف، درمیاں لہر ہے ​

سب محبت کا اک پہر ہے

Monday, 24 June 2013

اب کے بھی تیرے لیے جاں سے گزر جائیں گے


وہاں محفل نہ سجائی جہاں خلوت نہیں کی
اُس کو سوچا ہی نہیں جس سے مُحبت نہیں کی


اب کے بھی تیرے لیے جاں سے گزر جائیں گے
ہم نے پہلے بھی مُحبت میں سیاست نہیں کی


تُم سے کیا وعدہ خلافی کی شکایت کرتے
تُم نے تو لوٹ کے آنے کی بھی زحمت نہیں کی


دھڑکنیں سینے سے آنکھوں میں سِمٹ آئی تھیں
وہ بھی خاموش تھا، ہم نے بھی وضاحت نہیں کی


گردِ آئینہ ہٹائی ہے کہ سچائی کھلے
ورنہ تم جانتے ہو ہم نے بغاوت نہیں کی


بس ہمیں عشق کی آشفتہ سری کھینچتی ہے
رزق کے واسطے ہم نے کبھی ہجرت نہیں کی


آ، ذرا دیکھ لیں دنیا کو بھی، کس حال میں ہے
کئی دن ہو گئے دُشمن کی زیارت نہیں کی


تم نے سب کُچھ کیا، انسان کی عزت نہیں کی
کیا ہوا وقت نے جو تم سے رعایت نہیں کی

Friday, 10 May 2013

پسِ‌ دیوارِ زِنداں رات بھر روتا ہے کون


کیا بتائیں، فصلِ بے خوابی یہاں بوتا ہے کون
جب در و دیوار جلتے ہوں تو پھر سوتا ہے کون


تم تو کہتے تھے کہ سب قیدی رہائی پا گئے
پھر پسِ‌ دیوارِ زِنداں رات بھر روتا ہے کون


بس تِری بیچارگی ہم سے نہیں دیکھی گئی
ورنہ ہاتھ آئی ہوئی دولت کو یوں کھوتا ہے کون


کون یہ پاتال سے لے کر اُبھرتا ہے مجھے
اتنی تہہ داری سے مجھ پر منکشف ہوتا ہے کون


کوئی بے ترتیبئ کِردار کی حد ہے سلیم
داستاں کس کی ہے، زیبِ داستاں ہوتا ہے کون

Tuesday, 12 February 2013

موسم کی پہلی بارش


رات کی جلتی تنہائی میں
اندھیاروں کے جال بنے تھے
دیواروں پے تاریکی کی گرد جمی تھی
خوشبو کا احساس ہوا میں ٹوٹ رہا تھا
دروازے بانہیں پھیلائے اونگھ رہے تھے
دور سمندر پار ہوائیں بادلوں سے باتیں کرتی تھیں
ایسے میں ایک نیند کا جھونکا
لہر بنا اور گزر گیا
پھر آنکھ کھلی تو اس موسم کی پہلی بارش
اور تیری یادیں
دونوں مل کر ٹوٹ کر برسیں

Friday, 21 September 2012

کہیں تم قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے



کہیں تم قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے
تو شاید ہم بھی اپنا راستہ تبدیل کر لیتے

اگر ہم واقعی کم حوصلہ ہوتے محبت میں
مرض بڑھنے سے پہلے ہی دوا تبدیل کر لیتے

تمہارے ساتھ چلنے پر جو دل راضی نہیں ہوتا
بہت پہلے ہم اپنا فیصلہ تبدیل کر لیتے

تمہیں ان موسموں کی کیا خبر ملتی، اگر ہم بھی
گھٹن کے خوف سے آب و ہوا تبدیل کر لیتے

تمہاری طرح جینے کا ہنر آتا، تو پھر شاید
مکان اپنا وہی رکھتے، پتا تبدیل کر لیتے

وہی کردار ہیں تازہ کہانی میں ، جو پہلے بھی
کبھی چہرہ کبھی اپنا قبا تبدیل کر لیتے

جدائی بھی نہ ہوتی ، زندگی بھی سہل ہو جاتی
جو ہم اک دوسرے سے مسئلہ تبدیل کر لیتے

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہم بول اٹھے، ورنہ
گواہی دینے والے واقعہ تبدیل کر لیتے

بہت دھندلا گیا یادوں کی رم جھم میں دل سادہ
وہ مل جاتا تو ہم یہ آئینہ تبدیل کر لیتے

Thursday, 20 September 2012

کہیں تم قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے



کہیں تم قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے
تو شاید ہم بھی اپنا راستہ تبدیل کر لیتے

اگر ہم واقعی کم حوصلہ ہوتے محبت میں
مرض بڑھنے سے پہلے ہی دوا تبدیل کر لیتے

تمہارے ساتھ چلنے پر جو دل راضی نہیں ہوتا
بہت پہلے ہم اپنا فیصلہ تبدیل کر لیتے

تمہیں ان موسموں کی کیا خبر ملتی، اگر ہم بھی
گھٹن کے خوف سے آب و ہوا تبدیل کر لیتے

تمہاری طرح جینے کا ہنر آتا، تو پھر شاید
مکان اپنا وہی رکھتے، پتا تبدیل کر لیتے

وہی کردار ہیں تازہ کہانی میں ، جو پہلے بھی
کبھی چہرہ کبھی اپنا قبا تبدیل کر لیتے

جدائی بھی نہ ہوتی ، زندگی بھی سہل ہو جاتی
جو ہم اک دوسرے سے مسئلہ تبدیل کر لیتے

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہم بول اٹھے، ورنہ
گواہی دینے والے واقعہ تبدیل کر لیتے

بہت دھندلا گیا یادوں کی رم جھم میں دل سادہ
وہ مل جاتا تو ہم یہ آئینہ تبدیل کر لیتے

وہ جو ہمرہی کا غرور تھا، وہ سوادِ راہ میں جل بجھا



وہ جو ہمرہی کا غرور تھا، وہ سوادِ راہ میں جل بجھا
تو ہوا کے عشق میں گھل گیا میں زمیں کی چاہ میں جل بجھا

یہ جو شاخ لب پہ ہجوم رنگ صدا کھلا ہے گلی گلی
کہیں کوئی شعلہ بے نوا کسی قتل گاہ میں جل بجھا

جو کتابِ عشق کے باب تھے تری دسترس میں بکھر گئے
وہ جو عہد نامئہ خواب تھا، وہ مری نگاہ میں جل بجھے

ہمیں یاد ہو تو سنائیں بھی ذرا دھیان ہوتو بتائیں بھی
کہ وہ دل جو محرم راز تھا کہاں رسم و راہ میں جل بجھا

کہیں بے نیازی کی لاگ میں کہیں احتیاط کی آگ میں
تجھے میری کوئی خبر بھی ہے مرے خیر خواہ میں جل بجھا

مری راکھ سے نئی روشنی کی حکایتوں کو سمیٹ لے
میں چراغِ صبحِ وصال تھا تری خیمہ گاہ میں جل بجھا

وہ جو حرف تازہ مثال تھے انہیں جب سے تو نے بھلا دیا
تری بزم ناز کا بانکپن کسی خانقاہ میں جل بجھے

پسِ دیوار زنداں رات بھر روتا ہے کون



کیا بتائیں فصلِ بے خوابی یہاں بوتا کون
جب در و دیوار جلتے ہوں تو پھر سوتا کون

تم تو کہتے تھے کہ سب قیدی رہائی پا گئے
پھر پسِ دیوار زنداں رات بھر روتا ہے کون

بس تری بے چارگی ہم سے نہیں دیکھی گئی
ورنہ ہاتھ آئی ہوئی دولت کو یوں کھوتا کون

کون یہ پاتال سے لے کر ابھرتا ہے مجھے
اتنی تہہ داری سے مجھ پر منکشف ہوتا ہے کون

کوئی بے ترتیبئی کردار کی حد ہے سلیم
داستاں کس کی ہے زیبِ داستاں ہوتا ہے کون

یہ اور بات کہ خود کو بہت تباہ کیا



یہ اور بات کہ خود کو بہت تباہ کیا
مگر یہ دیکھ ترے ساتھ تو نباہ کیا

عجب طبیعت درویش تھی کہ تاج اور تخت
اسی کو سونپ دیا اور بادشاہ کیا

بساطِ عالم امکاں سمیٹ کر اس نے
خیالِ دشت تمنا کو گرد راہ کیا

متاع دیدہ و دل صرف انتظار ہوئی
ترے لئے تری آمد کو فرش راہ کیا

زمیںپہ جس نے جھکا دی ہیں آسماں کی حدیں
اسی نے خاک نشینوں کو کج کلاہ کیا

بجز خدا میں کسی کو جواب دہ تو نہیں
سو میں نے اپنی خاموشی ہی کو گواہ کیا

سلیم اس نے اندھیروں سے صبح کرنی تھی
سو دن کو دن ہی رکھا رات کو سیاہ کیا

Thursday, 6 September 2012

میں خیال ہوں کِسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے



میں خیال ہوں کِسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے

 سرِ آئینہ مِرا عکس ہے، پسِ آئینہ کوئی اور ہے

 میں کِسی کے دستِ طلب میں ہوں نہ کسی کے حرفِ دعا میں ہوں

 میں نصیب ہوں کِسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے

 جو وہ لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے

 جنہیں راہ میں یہ خبر ملی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے

 مِری روشنی تِرے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر

 تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تُو وہی ہے یا کوئی اور ہے

 تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی، مجھے دوستوں کا پتہ نہیں

 تِری داستاں کوئی اور تھی، مِرا واقعہ کوئی اور ہے

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets