Showing posts with label غزلیات. Show all posts
Showing posts with label غزلیات. Show all posts

Friday, 1 September 2017

ملا تو بیتے دنوں کا سچ اُس کی آنکھوں میں تھا












اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں
مگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوں

وہ ریزہ ریزہ مرے بدن میں اتر رہا ہے
میں قطرہ قطرہ اُسی کی آنکھوں کو پی رہا ہوں

تری ہتھیلی پہ کس نے لکھا ہے قتل میرا
مجھے تو لگتا ہے میں تیرا دوست بھی رہا ہوں

کھلی ہیں آنکھیں مگر بدن ہے تمام پتھر
کوئی بتائے میں مر چکا ہوں کہ جی رہا ہوں

کہاں ملے گی مثال میری ستمگری کی
کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں

نہ پوچھ مجھ سے کہ شہر والوں کا حال کیا تھا
کہ میں تو خود اپنے گھر میں دوگھڑی رہا ہوں

ملا تو بیتے دنوں کا سچ اُس کی آنکھوں میں تھا
وہ آشنا جس سے مدتوں اجنبی رہا پوں

بھلا دے مجھ کو کہ بے وفائی بجا ہے لیکن
گنوا نہ مجھ کو کہ میں تری زندگی رہا ہوں

وہ اجنبی بن کے اب ملے بھی تو کیا ہے محسن
یہ ناز کم ہے کہ میں بھی اُس کا کبھی رہا ہوں

Thursday, 2 March 2017

سلگ رہا ہے محبت کی آگ ميں وه شخص




















بلا کی دهوپ ميں بهی نخل سايہ دار ہوں ميں
زميں پہ تيری محبت کا اعتبار ہوں ميں

سلگ رہا ہے محبت کی آگ ميں وه شخص
اور اس پہ گرتی ہوئی کوئی آبشار ہوں ميں

تمہارے ہاته سے نکلوں تو بے کس و مجبور
تمہارے ہاته ميں آؤں تو اختيار ہوں ميں

ميں بچنے آئی تهی ليکن بچا رہی ہوں تجهے
تيرے حصار ميں تهی اب تيرا حصار ہوں ميں

پهر اُس کے بعد تو افسوس کا سفر ہے دوست
کہ زندگی ميں تيری صرف ايک بار ہوں ميں

مجهے ہجوم ميں بدلا ہے تيری يادوں نے
کی ايک ہو کے بهی لگتا ہے بے شمار ہوں ميں

تمہيں يقين قمؔر کس ليے ہے دنيا کا
تمہيں تو ميرا پتہ تها وفا شعار ہوں ميں

Wednesday, 21 September 2016

آج پھر یاد محبت کی کہانی آئی​












ٹھہری ٹھہری ہوئی طبیعت میں روانی آئی​
آج پھر یاد محبت کی کہانی آئی​
​
آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑتے دیکھا​
آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی​
​
مدّتوں بعد چلا اُن پہ ہمارا جادو​
مدّتوں بعد ہمیں بات بنانی آئی​
​
مدّتوں بعد پشیماں ہوا دریا ہم سے​
مدّتوں بعد ہمیں پیاس چُھپانی آئی​
​
مدّتوں بعد کھُلی وسعتِ صحرا ہم پر​
مدّتوں بعد ہمیں خاک اُڑانی آئی​
​
مدّتوں بعد میسر ہوا ماں کا آنچل​
مدّتوں بعد ہمیں نیند سُہانی آئی​
​
اتنی آسانی سے ملتی نہیں فن کی دولت​
ڈھل گئی عمر تو غزلوں پہ جوانی آئی​
​
اقبال اشعر​

Friday, 22 July 2016

جب نام تیرا پیار سے لکھتی ہیں انگلیاں

جب نام تیرا پیار سے لکھتی ہیں انگلیاں
میری طرف زمانے کی اٹھتی ہیں انگلیاں

دامن صنم کا ہاتھ میں آیا تھا ایک پل
دن رات اس ایک پل سے مہکتی ہیں انگلیاں

جس دن سے دور ہو گئے اس دن سے صنم
بس دن تمھارے آنے کے گنتی ہیں انگلیاں

پتھر تراش کر نہ بنا تاج ایک نیا
فنکار کی زمانے میں کٹتی ہیں انگلیاں . . . !

Thursday, 28 April 2016

موسمِ عشق تیری بارش میں

جانے کیسے سنبھال کر رکھے
سب ارادے سنبھال کر رکھے

کچھ نئے رنگ ہیں محبت کے
کچھ پرانے سنبھال کر رکھے


موسمِ عشق تیری بارش میں
خط جو بھیگے سنبھال کر رکھے

جن کی خوشبو اداس کرتی تھی
وہ بھی گجرے سنبھال کر رکھے

تجھ سے ملنے کے اور بچھڑنے کے
سارے خدشے سنبھال کر رکھے

جب ہوا کا مزاج برہم تھا
ہم نے پتّے سنبھال کر رکھے

آرزو کے حسین پنجرے میں
کچھ پرندے سنبھال کر رکھے

ہم نے دل کی کتاب میں تیرے
سارے وعدے سنبھال کر رکھے

تیرے دکھ کے تمام ہی موسم
اے زمانے سنبھال کر رکھے

میرے خوابوں کو راکھ کر ڈالا
اور اپنے سنبھال کر رکھے

Thursday, 18 February 2016

اے مرے عشق کی بات۔ آہستہ چل


جانِ جاں ہے مرے ساتھ۔ آہستہ چل
جتنا ممکن ہے اے رات۔ آہستہ چل

یہ محبت کا رستہ خطرناک ہے
اے دلِ غیر محتاط۔۔۔ آہستہ چل

اتنی رسوائیاں ٹھیک ہوتی نہیں
اے مرے عشق کی بات۔ آہستہ چل

کتنی مشکل سے آئے ہیں وہ بزم میں
کچھ تو وقتِ ملاقات۔ آہستہ چل

اس کی لافانی تصویر تخلیق کر
کینوس پہ مرے ہاتھ۔ آہستہ چل

Monday, 30 November 2015

اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں



اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں 
وہ کچھ زیادہ ہی یاد آتا ہےسردیوں میں 

مجھے اجازت نہیں ہے اس کو پکارنے کی 
جو گونجتا ہے لہو میں سینے کی دھڑکنوں میں 

وہ بچپنا جو اداس راہوں میں کھو گیا 
میں ڈھو نڈتا ہوں اسے تمہاری شرارتوں میں 

اسے دلاسے تو دے رہا ہو مگر یہ سچ ہے 
کہیں کوئی خوف بڑھ رہا ہت تسلیوں میں 

تم اپنی پوروں سے کیا لکھ گے تھے جاناں 
چراغ روشن ہے اب بھی میری ہتھیلیوں میں 

جو تو نہیں ہے تو یہ مکمل نہ ہو سکیں گی 
تیری یہی اہمیت ہے میری کہا نیوں میں 

مجھے یقیں ہےوہ تھام لے گا بھرم رکھے گا 
یہ مان ہے تو دیے جلاے ہے اندھیوں میں 

ہر اک موسم میں روشنی سی بکھرتے ہے 
تمہارے غم کے چراغ میری اداسیوں میں

Saturday, 14 November 2015

رختِ سفر میں رکھوں گی بس تیرے جستجو



یہ پُھول یہ پرند یہ گھر چھوڑ جاؤں گی
لیکن میں سب میں اپنا اثر چھوڑ جاؤں گی

رختِ سفر میں رکھوں گی بس تیرے جستجو
باقی ہر ایک چیز اِدھر چھوڑ جاؤں گی

لگتا ہے میں بھی سایۂ دیوار کی طرح
اک روز دن ڈھلے یہ نگر چھوڑ جاؤں گی

بچّوں کی طرح پالا ہے تیرے خیال کو
میں سوچتی ہوں اس کو کدھر چھوڑ جاؤں گی

میں وہ نہیں کہ موت سے مل کر نہ آسکوں
میں اپنے لوٹنے کی خبر چھوڑ جاؤں گی

ترسیں گے پھر یہ لوگ میرے شور کو قمر
چڑیوں کی طرح میں بھی شجر چھوڑ جاؤں گی

تو مثلِ رگِ جاں ہے تو کیوں مجھ سے خفا ہے









حیراں ہوں کہ یہ کونسا دستورِ وفا ہے
تو مثلِ رگِ جاں ہے تو کیوں مجھ سے خفا ہے

تو اہلِ نظر ہے تو نہیں تجھ کو خبر، کیوں؟
پہلو میں تیرے کوئی زمانے سے کھڑا ہے

لکھا ہے میرا نام، پانی پہ ہوا پہ
دونوں کی فطرت میں، سکوں ہے نہ وفا ہے

شکوہ نہیں مجھ کو، کہ ہوں محرومِ تمنّا
غم ہے تو فقط اتنا کہ تو دیکھ رہا ہے

ہم رکھتے ہیں دعویٰ کہ ہے قابو ہمیں دل پر
تو سامنے آ جائے تو یہ بات جدا ہے

خود کو سبز ہی رکھا آنسوؤں کی بارش میں



خواب ساتھ رہنے کے نت نئے دکھاتا ہے
یہ جو اصل موسم ہے یہ گزرتا جاتا ہے

خود کو سبز ہی رکھا آنسوؤں کی بارش میں
ورنہ ہجر کا موسم کس کو راس آتا ہے

تو ہواؤں کا موسم تجھ کو کیا خبر جاناں
گردِ بد گمانی سےدل بھی ٹوٹ جاتا ہے

ایک تم ہی تھے ورنہ آدمی محبت میں
لاکھ آئیں دیواریں راستے بناتا ہے

ہم تو خیر ناداں تھے،منتظر رہے ورنہ
کون اپنی بینائی اس طرح گنواتا ہے

کتنےخواب آنکھوں میں زخم بننےلگتےہیں
جب ہوا کے ہونٹوں پر تیرا نام آتا ہے

سینکڑوں دکانیں ہیں وصل کے چراغوں کی
کون ہجر میں اپنا اب لہو جلاتا ہے

یوں اکیلے میں اسے عہدِوفا یاد آئے



یوں اکیلے میں اسے عہدِوفا یاد آئے
جیسے بندے کو مصیبت میں خدا یاد آئے

جیسے بھٹکے ہوئے پنچھی کو نشیمن اپنا
جیسے اپنوں کے بچھڑنے پہ دعا یادآئے

جیسے ڈھلتی ہوئی شاموں کو سویرا کوئی
جیسے پنجرے میں پرندے کو فضا یاد آئے

جیسے بوڑھے کو خیالات میں بچپن اپنا
جیسے بچے کو شرارت پہ سزا یاد آئے

جیسے اُجڑی ہوئی بستی کو زمانہ اپنا
جیسے طوفان کے ٹھہرنے پہ دیا یاد آئے

متاع کوثر و زمزم کے پیمانے تری آنکھیں



متاع کوثر و زمزم کے پیمانے تری آنکھیں
فرشتوں کو بنا دیتی ہیں دیوانے تری آنکھیں

جہان رنگ و بو الجھا ہوا ہے ان کے ڈوروں میں 
لگی ہیں کاکل تقدیر سلجھانے تری آنکھیں

اشاروں سے دلوں کو چھیڑ کر اقرار کرتی ہیں
اٹھاتی ہیں بہارِ نو کے نذرانے تری آنکھیں

وہ دیوانے زمام لالہ و گل تھام لیتے ہیں
جنہیں منسوب کر دیتی ہیں ویرانے تری آنکھیں

شگوفوں کو شراروں کا مچلتا روپ دیتی ہیں
حقیقت کو بنا دیتی ہیں افسانے تری آنکھیں

Wednesday, 21 October 2015

شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے



شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے
گھستے گھستے گھس گئے آخر کنکر جو نوکیلے تھے

خارِ چمن تھے شبنم شبنم پھول بھی سارے گیلے تھے
شاخ سے ٹوٹ کے گرنے والے پتے پھر بھی پیلے تھے

سرد ہواوں سے تو تھے ساحل کی ریت کے یارانے
لو کے تھپیڑے سہنے والے صحراوں کے ٹیلے تھے

تابندہ تاروں کا تحفہ صبح کی خدمت میں ‌پہنچا
رات نے چاند کی نذر کیے جو تارے کم چمکیلے تھے

سارے سپیرے ویرانوں میں گھوم رہے ہیں بین لیے
آبادی میں رہنے والے سانپ بڑے زہریلے تھے

تم یونہی ناراض ہوئے ہو ورنہ مے خانے کا پتہ
ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے

Wednesday, 7 October 2015

زندگی تجھ کو بھولتی ہی نہیں












دامِ الفت سے چھوٹتی ہی نہیں
زندگی تجھ کو بھولتی ہی نہیں

کتنے طوفاں اٹھائے آنکھوں نے
ناؤ یادوں کی ڈوبتی ہی نہیں

تجھ سے ملنے کی تجھ کو پانے کی
کوئی تدبیر سوجھتی ہی نہیں

ایک منزل پہ رک گئی ہے حیات
یہ زمیں جیسے گھومتی ہی نہیں

لوگ سر پھوڑ کر بھی دیکھ چکے
غم کی دیوار ٹوٹتی ہی نہیں

شیشہ نہ سہی، پتھر بھی نہ تھا، دل ٹوٹ گیا دھیرے دھیرے



ہر شمع بجھی رفتہ رفتہ ، ہر خواب لٹا دھیرے دھیرے
شیشہ نہ سہی، پتھر بھی نہ تھا، دل ٹوٹ گیا دھیرے دھیرے

برسوں‌ میں‌ مراسم بنتے ہیں‌، لمحوں میں‌ بھلا کیا ٹوٹیں گے
تو مجھ سے بچھڑنا چاہے تو دیوار اٹھا دھیرے دھیرے

احساس ہوا بربادی کا جب سارے گھر میں‌ دھول اڑی
آئی ہے ہمارے آنگن میں‌ پت جھڑ کی ہوا دھیرے دھیرے

دل کیسے جلا، کس وقت جلا، ہم کو بھی پتہ آخر میں‌ چلا
پھیلا ہے دھواں‌ چپکے چپکے، سلگی ہے چتا دھیرے دھیرے

وہ ہاتھ پرائے ہو بھی گئے ، اب دور کا رشتہ ہے قیصر
آتی ہے میری تنہائ میں خوشبوئے حنا دھیرے دھیرے

Friday, 2 October 2015

چراغِ عِشق جلانے کی رات آئی ہے



چراغِ عِشق جلانے کی رات آئی ہے
کسی کو اپنا بنانے کی رات آئی ہے

فلک کا چاند بھی شرما کے مُنہ چھپائے گا
نقاب رُخ سے اُٹھانے کی رات آئی ہے

نِگاہِ ساقی سے پیہم چھلک رہی ہے شراب
پیو ! کہ پینے پلانے کی رات آئی ہے 

وہ آج آئے ہیں محفل میں چاندنی لے کر
کہ روشنی میں نہانے کی رات آئی ہے

جمالِ یار محبت کو عام کر دے گا




نقاب اُٹھائے تو دُشمن سلام کر دے گا
جمالِ یار محبت کو عام کر دے گا

یہ دُھوپ ، چھاؤں کے موسم ہیں اُس کی مٹھی میں
اَگر ضَروری لگا ، دِن میں شام کر دے گا

ہے کوہ قاف پہ اُس شوخ گُل کا ذِکر حرام
کہ ننھی پریوں کو یہ بے لگام کر دے گا

طلسمِ مصر ہے اُس کے حسین ہاتھوں میں
جو وُہ بنائے تو چائے کو جام کر دے گا

نہ چھوڑ اِس قَدَر آزاد اَپنی آنکھوں کو
یہ کام تجھ کو کسی کا غلام کر دے گا

تمام رات فقط چاند دیکھتے رہنا
تمہارا کام کسی دِن تمام کر دے گا

غزل ، صنم پہ سبھی لکھتے ہیں مگر مجنوں!
کتاب لکھے گا ، لیلیٰ کے نام کر دے گا

خدا کے واسطے ، اُمید کی حفاظت کر
خدا نے چاہا تو دُشمن بھی کام کر دے گا

اُداس ہو تو غزل اور بھی سناؤں حُضور؟
جو مسکراؤ تو قیس اِختتام کر دے گا۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets