Showing posts with label واصف علی واصف. Show all posts
Showing posts with label واصف علی واصف. Show all posts

Thursday, 6 September 2012

رُخصتی



ہم پردیسی اس آنگن میں
دیس ہمارا دُور، بابل یہ کیسا دستُور
چھوڑ کے تیری نگری کو ہم
جانے پر مجبُور، بابل یہ کیسا دستُور
کوئی نہ جائے ساتھ ہمارے
ہم تنہا پنچھی بے چارے
اُڑنے پر مجبُور، بابل یہ کیسا دستُور
بھائی بہناں راضی رہنا
ہم نے پہنا ہجر کا گہنا
بند زباں سے اب کیا کہنا
دل ہے چکناچُور، بابل یہ کیسا دستُور
دُنیا کے سب رشتے جُھوٹے
ماں بیٹی کا ساتھ نہ چُھوٹے
باپ کے قدموں کی مٹّی ہے
بیٹی کا سندُور، بابل یہ کیسا دستُور
سُورج ڈُوبا، بڑھ گئے سائے
رُخصت کرتے ہیں ماں جائے
ہم پردیسی کیوں کہلائے
کیا ہوا ہم سے قصُور، بابل یہ کیسا دستُور
بابل تیرے پیار کا سایہ
آج مرے کیوں کام نہ آیا
اپنی آنکھ سے دُور کیا کیوں
اپنی آنکھ کا نُور، بابل یہ کیسا دستُور
اپنی تو تقدیر یہی تھی
خوابوں کی تعبیر یہی تھی
اللہ کو منظُور ہے جو کچھ
ہم کو بھی منظُور، بابل یہ کیسا دستُور

چارسُو نُور کی برسات ہوئی آج کی رات


چارسُو نُور کی برسات ہوئی آج کی رات
احد اور احمد کی ملاقات ہوئی آج کی رات

گفتگو ذات سے بالذّات ہوئی آج کی رات
مُختصر یہ کہ بڑی بات ہوئی آج کی رات

راکبِ وقت نے کھینچی ہے زمامِ گردِش
حیرتِ ارض و سماوات ہوئی آج کی رات

یوں تو الطاف تھے سرکار پہ روزِ کُن سے
وا مگر چشمِ عنایات ہوئی آج کی رات

رِفعتِ عبد کو جبریلِ امیں نے دیکھا
کیوں نہ ہو، رافعِ درجات ہوئی آج کی رات

پردۂ میم کے اندر ہے مقامِ محمود
کاشفِ سِرِّ حجابات ہوئی آج کی رات

قابَ قوسَین سے دو گام ورأ جا نکلا
عقل والوں کو بڑی مات ہوئی آج کی رات

جُملہ ایّام سے تابندہ ہے میلاد کا دن
جُملہ راتوں سے حسیں رات ہوئی آج کی رات

آج کی رات ہے عبادات کا ثمرہ واصف
حمد و تسبیح و مناجات ہوئی آج کی رات

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets