Showing posts with label مظفر وارثی. Show all posts
Showing posts with label مظفر وارثی. Show all posts

Wednesday, 19 August 2015

اب کے برسات کی رُت اور بھی بھڑکیلی ہے



اب کے برسات کی رُت اور بھی بھڑکیلی ہے
جسم سے آگ نکلتی ہے قبا گیلی ہے

سوچتا ہوں کہ اب انجامِ سفر کیا ہوگا؟
لوگ بھی کانچ کےہیں راہ بھی پتھریلی ہے

شدتِ کرب میں تو ہنسنا کرب ہے میرا
ہاتھ ہی سخت ہیں زنجیر کہاں ڈھیلی ہے؟

گرد آنکھوںمیں سہی، داغ تو چہرے پہ نہیں
لفظ دھندلے ہیں مگر فکر تو چمکیلی ہے

گھول دیتا ہے سماعت میں وہ میٹھا لہجا
کس کو معلوم کہ یہ قِند بھی زہریلی ہے

پہلے رگ رگ سے مری خون نچوڑا اسنے
اب یہ کہتا ہے کہ رنگت ہی مری پیلی ہے

مجھکو بے رنگ نہ کردیں کہیں رنگ اتنے
سبزموسم ہے، ہوا سرخ، فضا نیلی ہے

میری پرواز کسی کو نہیں بھاتی تو نہ بھائے
کیا کروں ذہن مظفر میرا جبریلی ہے۔


Friday, 22 March 2013

ہمراہ لیے جاؤ مِرا دیدہء تَر بھی



ہمراہ لیے جاؤ مِرا دیدہء تَر بھی
جاتے ہو سفر پر تو کوئی رختِ سفر بھی

بھیجے ہیں تلاطم بھی کئی اور بھَنور بھی
اے بحرِ سُخن، چند صدف، چند گہر بھی

پھر آنکھ وہیں ثبت نہ ہو جائے تو کہنا
پڑ جائے اگر اُس پہ تِری ایک نظر بھی

درکار ہے کیا آپ کو اشکوں کی دُکاں سے
جلتی ہوئی شمعیں بھی ہیں، کچھ دیدہء تر بھی

یہ شہرِِ جدائی ہے، اندھیرے ہیں شب و روز
اِس شہر میں جلتے ہیں دیئے وقتِ سحر بھی

کچھ پیاس ہے اُس حُسن کو بھی میری نظر کی
کچھ حُسن کا پیاسا ہے مِرا حُسنِ نظر بھی

کیا عِشق ہے، کیا حُسن ہے، کیا جانیئے کیا ہو
محشر ہے اِدھر بھی تو قیامت ہے اُدھر بھی

تُو چشمِ عنایت سے ذرا رُخ تو اِدھر کر
کافی ہے تِری ایک محبت کی نظر بھی

کچھ فرق درست اور غلط میں نہیں باقی
ہر بات پہ کچھ لوگ اِدھر بھی ہیں اُدھر بھی

کھنچنا ہے کہاں تک تجھے بانہوں کی کماں میں
تُو دل کے لیے ہے تو مِرے دل میں اُتر بھی

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets