Showing posts with label ساحر لدھیانوی. Show all posts
Showing posts with label ساحر لدھیانوی. Show all posts

Wednesday, 8 May 2013

ظلم پھر ظلم ہے،بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے


ظلم پھر ظلم ہے،بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے،ٹپکے گا تو جم جائے گا

خاکِ صحرا پہ جمے یا کفِ قاتل پہ جمے
فرقِ انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے
تیغِ بے داد پہ یا لاشہ بسمل پہ جمے
خون پھر خون ہے ،ٹپکے گا تو جم جائے گا

لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں
خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ
سازشیں لاکھ اڑاتی رہیں ظلمت کا نقاب
لے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ
ظلم کی قسمتِ نقارہ و رسوا سے کہو
جبر کی حکمتِ پرکار کی ایماء سے کہو
مہملِ مجلسِ اقوام کی لیلیٰ سے کہو
خون دیوانہ ہے،دامن پہ لپک سکتا ہے
شعلہ تند ہے،خرماں پہ لپک سکتا ہے

تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار میں آنکلا ہے
کہیں شعلہ کہیں نعرہ کہیں پتھر بن کے
خون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگینوں سے
سر جو اٹھتا ہے تو دبتا نہیں آئینوں سے
ظلم کی بات ہی کیا،ظلم کی اوقات ہی کیا
ظلم بس ظلم ہے،آغاز سے انجام تلک
خون پھر خون ہے،سو شکل بدل سکتا ہے
ایسی شکلیں کہ مٹاو تو مٹائے نہ بنے
ایسے شعلے کہ بجھاو تو بجھائے نہ بنے
ایسے نعرے کہ دباو تو دبائے نہ بنے


Monday, 18 March 2013

میری ہر سوچ نے ، ہر سانس نے چاہا ہے تمہیں


بھول سکتا ہے بھلا کون یہ پیاری آنکھیں
رنگ میں ڈوبی ہوئی ، نیند سے بھاری آنکھیں


میری ہر سوچ نے ، ہر سانس نے چاہا ہے تمہیں
جب سے دیکھا ہے تمہیں ، تب سے سراہا ہے تمہیں
بس گئی ہیں میری آنکھوں میں ، تمہاری آنکھیں

تم جو نظروں کو اٹھاؤ تو ستارے جھک جائیں
تم جو پلکوں کو جھکاؤ تو زمانے رک جائیں
کیوں نہ بن جائیں ان آنکھوں کی پجاری آنکھیں

جاگتی راتوں کو سپنوں کا خزانہ مل جائے
تم جو مل جاؤ تو جینے کا بہانہ مل جائے
اپنی قسمت پہ کریں ناز ہماری آنکھیں

Friday, 15 March 2013

بھولے سے محبّت ّکر بیٹھا ، ناداں تھا بیچارا ، دل ہی تو ہے


بھولے سے محبّت ّکر بیٹھا ، ناداں تھا بیچارا ، دل ہی تو ہے 
ہر دل سے خطا ہو جاتی ہے ، بگڑو نا خدا را دل ہی تو ہے

اس طرح نگاہیں مت پھیرو ، ایسا نہ ہو دھڑکن رک جائے
سینے میں کوئی پتھر تو نہیں ، احساس کا مارا دل ہی تو ہے

جزبات بھی ہندو ہوتے ہیں ، چاہت بھی مسلماں ہوتی ہے
دنیا کا اشارہ تھا ، لیکن سمجھا نہ اشارہ ، دل ہی تو ہے

بیداد گروں کی ٹھوکر سے ، سب خواب سہانے چُور ہوئے 
اب دل کا سہارا غم ہی تو ہے، اب غم کا سہارا دل ہی تو ہے


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets