Showing posts with label عباس تابش. Show all posts
Showing posts with label عباس تابش. Show all posts

Tuesday, 26 February 2013

شکستہ خواب و شکستہ پا ہوں ، مجھے دعاؤں میں‌یاد رکھنا


شکستہ خواب و شکستہ پا ہوں ، مجھے دعاؤں میں‌یاد رکھنا
میں‌ آخری جنگ لڑ رہا ہوں ، مجھے دعاؤں میں‌ یاد رکھنا

ہوائیں پیغام دے گئی ہیں‌کہ مجھے دریا بلا رہا ہے 
میں‌ بات ساری سمجھ گیا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا

نہ جانے کوفے کی کیا خبر ہو نہ جانے کس دشت میں بسر ہو
میں پھر مدینے سے جارہا ہوں ، مجھے دعاؤں میں‌ یاد رکھنا

مجھے عزیزان من! محبت کا کوئی بھی تجربہ نہیں ہے 
میں اس سفر میں‌ نیا نیا ہوں ، مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا

مجھے کسی سے بھلائی کی اب کوئی توقع نہیں ہے تابش
میں عادتا سب سے کہہ رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا


Wednesday, 30 January 2013

بس اتنا یاد ہے پہلی محبت کا سفر تھا وہ



جب اپنی اپنی محرومی سے ڈر جاتے تھے ہم دونوں
کسی گہری اُداسی میں اتر جاتے تھے ہم دونوں
بہارِ شوق میں بادِ خزاں آثار چلتی تھی
شگفتِ گل کے موسم میں بکھر جاتے تھے ہم دونوں
تمہارے شہر کے چاروں طرف پانی ہی پانی تھا
وہی اک جھیل ہوتی تھی جدھر جاتے تھے ہم دونوں
سنہری مچھلیاں، مہتاب اور کشتی کے اندر ہم
یہ منظر گم تھا پھر بھی جھیل پر جاتے تھے ہم دونوں
زمستاں کی ہواؤں میں فقط جسموں کے خیمے تھے
دبک جاتے تھے ان میں جب ٹھٹھر جاتے تھے ہم دونوں
عجب اک بے یقینی میں گزرتی تھی کنارے پر
ٹھہرتے تھے نہ اٹھ کے اپنے گھر جاتے تھے ہم دونوں
بہت سا وقت لگ جاتا تھا خود کو جمع کرنے میں
ذرا سی بات پر کتنا بکھر جاتے تھے ہم دونوں
کہیں جانا نہیں تھا اس لئے آہستہ رو تھے ہم
ذرا سا فاصلہ کر کے ٹھہر جاتے تھے ہم دونوں
زمانہ دیکھتا رہتا تھا ہم کو چور آنکھوں سے
نہ جانے کن خیالوں میں گزر جاتے تھے ہم دونوں
بس اتنا یاد ہے پہلی محبت کا سفر تھا وہ
بس اتنا یاد ہے شام و سحر جاتے تھے ہم دونوں
حدودِ خواب سے آگے ہمارا کون رہتا تھا
حدودِ خواب سے آگے کدھر جاتے تھے ہم دونوں

Thursday, 17 January 2013

یہ محبّت کی کہانی نہیں مرتی لیکن


دشت میں پیاس بُجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا
ہم ترے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

کس طرح لوگ چلے جاتے ہیں اُٹھ کر چُپ چاپ
ہم تو یہ دھیان میں لاتے ہوئے مر جاتے ہیں

اُن کے بھی قتل کا الزام ہمارے سر ہے
جو ہمیں زہر پلاتے ہوئے مر جاتے ہیں

یہ محبّت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے تابش
جو کناروں کو ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں


Wednesday, 19 December 2012

تسلی دے کے مرا صبر آزمانا مت



تسلی دے کے مرا صبر آزمانا مت
میں وضع دارستم ہوں مجھے رلانا مت

میں سوچ ہی نہیں سکتا کسی کے بارے میں
مری شکست کا باعث مجھے بتانا مت

اب اور ٹوٹنے کاحوصلہ نہیں مجھ میں
جمال یار مجھے آئینہ بنانا مت

ہم اہل عشق پلٹنا محال کر دیں گے
ہمارے ساتھ کہیں دو قدم بھی جانا مت

ترے حساب سے ہم حیرتی ہی اچھے تھے
کہا نہ تھا کہ ہماری سمجھ میں آنا مت

اسی زمین پہ رہنا پسند ہے ہم کو
ہمارے پر بھی نکل آئیں تو اڑانا مت

یار کے غم کو عجب نقش گری آتی ہے



یار کے غم کو عجب نقش گری آتی ہے
پور پور آنکھ کے مانند بھری آتی ہے

بے تعلق نہ ہمیں جان کہ ہم جانتے ہیں
کتنا کچھ جان کے بھی بے خبری آتی ہے

اس قدر گوندھنا پڑتی ہے لہو سے مٹی
ہاتھ گھل جاتے ہیں تو کوزہ گری آتی ہے

کتنا رکھتے ہیں وہ اس شہر خموشاں کا خیال
روز اک ناؤ گلابوں سے بھری آتی ہے

زندگی کیسے بسر ہوگی کہ ہم کو تابش
صبر آتا ہے نہ آشفتہ سری آتی ہے

ایک محبت اور وہ بھی ناکام محبت



پانی آنکھ میں بھر کر لایا جاسکتا ہے
اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے

ایک محبت اور وہ بھی ناکام محبت
لیکن اس سے کام چلایا جا سکتا ہے

دل پر پانی پینے آتی ہیں امیدیں
اس چشمے میں زہر ملایا جا سکتا ہے

مجھ بدنام سے پوچھتے ہیں فرہاد و مجنوں
عشق میں کتنا نام کمایا جا سکتا ہے

یہ مہتاب یہ رات کی پیشانی کا گھاؤ
ایسا زخم تو دل پر کھایا جا سکتا ہے

پھٹا پرانا خواب ہے میرا پھر بھی تابش
اس میں اپنا آپ چھپایا جا سکتا ہے

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets