Showing posts with label مصطفیٰ زیدی. Show all posts
Showing posts with label مصطفیٰ زیدی. Show all posts

Monday, 31 August 2015

بُجھ گیا ہے وُہ ستارہ جو مِری رُوح میں تھا



بُجھ گیا ہے وُہ ستارہ جو مِری رُوح میں تھا 
کھو گئی ہے وُہ حرارت جو تِری یاد میں تھی

وُہ نہیں عِشرت ِ آسودگیء منزِل میں 
جو کسک جادہء گُم گشتہ کی اُفتاد میں تھی

دُور اِک شمع لرزتی ہے پس ِ پردہء شب 
اِک زمانہ تھا کہ یہ لَو مِری فریاد میں تھی

ایک لاوے کی دھمک آتی تھی کُہساروں سے 
اِک قیامت کی تپش تیشہء فرہاد میں تھی

ناسِخ ساعت ِ اِمروز کہاں سے لائے 
وُہ کہانی جو نظر بندیء اجداد میں تھی

Friday, 2 August 2013

بُجھ گیا ہے وُہ ستارہ جو مِری رُوح میں تھا


بُجھ گیا ہے وُہ ستارہ جو مِری رُوح میں تھا 
کھو گئی ہے وُہ حرارت جو تِری یاد میں تھی 

وُہ نہیں عِشرت ِ آسودگیء منزِل میں 
جو کسک جادہء گُم گشتہ کی اُفتاد میں تھی 

دُور اِک شمع لرزتی ہے پس ِ پردہء شب 
اِک زمانہ تھا کہ یہ لَو مِری فریاد میں تھی 

ایک لاوے کی دھمک آتی تھی کُہساروں سے 
اِک قیامت کی تپش تیشہء فرہاد میں تھی 

ناسِخ ساعت ِ اِمروز کہاں سے لائے 
وُہ کہانی جو نظر بندیء اجداد میں تھی 

Friday, 22 March 2013

بزم میں باعثِ تاخیر ہوا کرتے تھے



بزم میں باعثِ تاخیر ہوا کرتے تھے
ہم کبھی تیرے عناں گیر ہوا کرتے تھے

ہائے اب بھول گیا رنگِ حنا بھی تیرا
خط کبھی خون سے تحریر ہوا کرتے تھے

کوئی تو بھید ہے اس طور کی خاموشی میں
ورنہ ہم حاصلِ تقریر ہوا کرتے تھے

ہجر کا لطف بھی باقی نہیں، اے موسِمِ عقل!
اُن دنوں نالۂ شب گیر ہوا کرتے تھے

اُن دنوں دشت نوردی میں مزا آتا تھا
پاؤں میں حلقۂ زنجیر ہوا کرتے تھے

خواب میں تجھ سے ملاقات رہا کرتی تھی
خواب شرمندۂ تعبیر ہوا کرتے تھے

تیرے الطاف و عنایت کی نہ تھی حد ورنہ
ہم تو تقصیر ہی تقصیر ہوا کرتے تھے

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets