Showing posts with label گلزار. Show all posts
Showing posts with label گلزار. Show all posts

Monday, 27 May 2013

کیوں اتنی لمبی ہو تی ہے، چاندنی رات جُدائی کی



تنکا تنکا کانٹے توڑے ___ ساری رات کٹائی کی 
کیوں اتنی لمبی ہو تی ہے، چاندنی رات جُدائی کی
  
اروں کی روشن فصلیں اور چاند کی ایک درانتی تھی 
ساہوکار نے گروی رکھ لی میری رات کٹائی کی

آنکھوں اور کانوں میں سنا ٹے سے بھر جاتے ہیں 
کیا تم نے اُڑتی دیکھی ہے، ریت کبھی تنہا ئی کی

سینے میں دِل کی آہٹ، جیسے کوئی جاسوس چلے 
ہر سائے کا پیچھا کرنا، عادت ہے ہر جائی کی

 نیند میں کوئی اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ہے
کال کنویں میں گونجتی ہے، آواز کسی سودائی کی

صبح صبح اِک خواب کی دستک پر دروازہ کھولا


صبح صبح اِک خواب کی دستک پر دروازہ کھولا
دیکھا سرحد کے اُس پار کے کچھ مہمان آئے ہیں
آنکھوں سے مانوس تھے سارے
چہرے سارے سُنے سنائے
پاؤں دھوئے، ہاتھ دُھلائے
آنگن میں آسن لگوائے
اور تنور پہ مکی کے کچھ موٹے موٹے روٹ پکائے
پوٹلی میں مہمان مِیرے
پچھلے سالوں کی فصلوں کا گڑ لائے تھے
آنکھ کھلی تو دیکھا گھر میں کوئی نہیں تھا
ہاتھ لگا کر دیکھا تو تنور ابھی تک بُجھا نہیں تھا
اور ہونٹوں پر میٹھے گڑ کا ذائقہ اب تک چپک رہا تھا
خواب تھا شاید
خواب ہی ہو گا
سرحد پر کل رات، سُنا ہے،
چلی تھی گولی
سرحد پر کل رات، سُنا ہے
کچھ خوابوں کا خون ہوا تھا

Monday, 1 April 2013

دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی


دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی
جیسے احساں اتارتا ہے کوئی

آئینہ دیکھ کر تسّلی ہوئی
ہم کو اس کے گھر میں جانتا ہے کوئی

پَک گیا ہے شجر پہ پھل شاید
پھر سے پتھر اچھالتا ہے کوئی

پھر نظر میں لہو کے چھینٹے ہیں
تم کو شاید مغالطہ ہے کوئی

دیر سے گونجتے ہیں سناٹے
جیسے ہم کو پکارتا ہے کوئی


Thursday, 27 September 2012

معنی کا عذاب



چوک سے چل کر، منڈی اور بازار سے ہوکر
لال گلی سے گزری ہے کاغذ کی کشتی
بارش کے لاوارث پانی پر بیٹھی بیچاری کشتی
شہر کی آوارہ گلیوں میں سہمی سہمی گھوم رہی ہے
پوچھ رہی ہے
ہر کشتی کا ساحل ہوتا ہے تو کیا میرا بھی کوئی ساحل ہوگا

بھولے بھالے اک بچے نے
بے معنی کو معنی دے کر
ردی کے کاغذ پر کیسا ظلم کیا ہے

Thursday, 6 September 2012

بِیمار یاد



اِک یاد بڑی بِیمار تھی کل
کل ساری رات اُس کے ماتھے پر
برف سے ٹھنڈے چاند کی پَٹّی رَکھ رَکھ کر
اِک اِک بُوند دِلاسہ دے کر
ازحد کوشش کی اُس کو زندہ رکھنے کی 
پَو پَھٹنے سے پہلے لیکن 
آخری ہِچکی لے کر وہ خاموش ہوئی

اِک یاد بڑی بِیمار تھی کل
کل ساری رات اُس کے ماتھے پر
برف سے ٹھنڈے چاند کی پَٹّی رَکھ رَکھ کر
اِک اِک بُوند دِلاسہ دے کر
ازحد کوشش کی اُس کو زندہ رکھنے کی 
پَو پَھٹنے سے پہلے لیکن 
آخری ہِچکی لے کر وہ خاموش ہوئی

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets