Showing posts with label ہدیہ نعت پحضور سرور کائنات. Show all posts
Showing posts with label ہدیہ نعت پحضور سرور کائنات. Show all posts

Sunday, 10 February 2013

آنکھ فدائے روئے محمد


آنکھ فدائے روئے محمد
(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)

قلب نثار کوئے محمد
 (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)

خوشبوئے کونین سے بہتر، پھولوں سے بر تر کلیوں سے بڑھ کر
خوشبوئے گیسوئے محمد
(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)

دنیامیری ، ذکر مدینہ ، دین مرا دیں شہ بطحا
ایماں مرا روئے محمد
 (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)




Tuesday, 4 December 2012

یہ کوچہءِ حبیب ہے پلکوں سے چل کے آ



شوق و نیاز و عشق کے سانچے میں ڈھل کے آ
یہ کوچہءِ حبیب ہے پلکوں سے چل کے آ

امت کے اولیاءبھی ادب سے ہیں دم بخود
یہ بارگاہِ سرورِدیں ہے سنبھل کے آ

آتا ہے تو جو شہرِ رسالت مآب میں
حرص و ہوس کے دام سے باہر نکل کے آ

ماہِ عرب کے آگے تری بات کیا بنے
اے ماہتاب روپ نہ ہر شب بدل کے آ

سوزوتپش سخن میں اگر چاہتا ہے تو
عشقِ نبی کی آگ سے تائب پگھل کے آ

عبدالحفیظ تائب


Friday, 16 November 2012

میرے ہاتھوں سے اور میرے ہونٹوں سے خوشبو جاتی نہیں



سارے حرفوں میں اک حرف، پیارا بہت اور یکتا بہت
سارے ناموں میں اک نام ، سوہنا بہت اور ہمار ا بہت


اس کی شاخوں پر زمانو ں کے موسم بسیرا کریں
اک شجر جس کے دامن کا سایہ بہت اور گھنیرا بہت


ایک آہٹ کی تحویل میں ہیں زمیں آسماں کی حدیں
ایک آواز دیتی ہے پہرہ بہت اور گہرا بہت


جس دیے کی توانائی ارض و سما کی حرارت بنی
اس دیے کا ہمیں بھی حوالہ بہت اور اجالا بہت


میری بینا ئی سے اور میرے ذہن سے محو ہوتا نہیں
میں نے روئے محمد کو سوچا بہت اور چاہا بہت


میرے ہاتھوں سے اور میرے ہونٹوں سے خوشبو جاتی نہیں
میں نے اسم محمد کو لکھا بہت اور چوما بہت


بے یقین راستوں پر سفر کرنے والے مسافر سنو
بےسہاروں کا ہے اک سہارا بہت ، کملی والا بہت


Monday, 22 October 2012

صبا نہاؤں گلاب پہنوں تو سوچنے کی کروں جسارت



میں جب بھی اس کی محبتوں کی صداقتوں کی کتاب لکھوں
تو سب سے پہلے اسے محمد کہوں رسالت مآب لکھوں

کروں تلاوت صحیفہ رخ کی اور اسے الکتاب لکھوں
جو خواب میں اس کو دیکھ پاؤں تو خواب کو کیسے خواب لکھوں

مرے خدا ! اپنی طبع مشکل پسند کا کیا جواب لکھوں
وہ کام جس کے نہیں ہوں قابل اسی کو کارِ ثواب لکھوں

صبا نہاؤں گلاب پہنوں تو سوچنے کی کروں جسارت
وضو کروں پہلے آنسوؤں سے تو اسمِ عالیِ جناب لکھوں

ٹھہر بھی جا اشکِ شامِ ہجراں ! ذرا اجازت دے سوچنے کی
جو خط ابھی تک لکھا نہیں ھے کوئی تو اس کا جواب لکھوں

اسی کو چاہوں اسی کو سوچوں اسی کی کرتا رہوں تلاوت
جو اذن لکھنے کا پا سکوں تو اسی کو میں بے حساب لکھوں

سرمژہ جو لرز رھے ھیں درود اور نعت کے ستارے
انھیں شفاعت کے پھول لکھوں کہ مغفرت کے گلاب لکھوں

وہی تو ھے جو الوہیت کی صفات کا مظہر اتم ھے
لکھوں تو اس کو نقاب اندر نقاب اندر نقاب لکھوں

تمام سچائیوں کا حامل وہی ھے کامل وہی ھے اکمل
اسی کو لوح وقلم اسی کو کتاب اندر کتاب لکھوں

جو حرف اب بھی اتر رھے ھیں جو اب بھی الفاظ بولتے ھیں
اسی کا حسن بیان ،حسنَ کلام، حسن خطاب لکھوں

وہی ھے نیت وہی ارادہ وہی ھے منزل وہی ھے جادہ
وہ راہبر ہو اگر سفر میں تو ہر سفر کامیاب لکھوں

دل ونظر اشک اشک دھوؤں تو اس  پہ بھیجوں درود مضطر !
سجاؤں پلکوں کو آنسوؤں سے تو نعت کو آب آب لکھوں


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets