Showing posts with label امیر مینائی. Show all posts
Showing posts with label امیر مینائی. Show all posts

Monday, 13 May 2013

اے ضبط! دیکھ عشق کی اُن کو خبر نہ ہو



اے ضبط! دیکھ عشق کی اُن کو خبر نہ ہو
دل میں ہزار درد اُٹھے، آنکھ تر نہ ہو

مدّت میں شامِ وصل ہوئی ہے مجھے نصیب
دو چار سو برس تو الہٰی! سحر نہ ہو

اِک پھول ہے گلاب کا آج اُنکے ہاتھ میں
دھڑکا مجھے یہ ہے کہ کسی کا جگر نہ ہو

ڈھونڈے سے بھی نہ معنئ باریک جب ملا
دھوکہ ہوا یہ مجھ کو کہ اُس کی کمر نہ ہو

فرقت میں یاں سیاہ زمانہ ہے مجھ کو کیا
گردوں پہ آفتاب نہ ہو یا قمر نہ ہو

دیکھی جو صورتِ ملک الموت نزع میں
میں خوش ہوا کہ یار کا یہ نامہ بر نہ ہو

آنکھیں ملیں ہیں اشک بہانے کے واسطے
بیکار ہے صدف جو صدف میں گُہر نہ ہو

الفت کی کیا اُمید وہ ایسا ہے بے وفا
صحبت ہزار سال رہے، کچھ اثر نہ ہو

طولِ شب وصال ہو، مثلِ شبِ فراق
نکلے نہ آفتاب، الٰہی! سحر نہ ہو

منہ پھیر کر کہا جو کہا میں نے حال ِدل
چُپ بھی رہو امیر! مجھے دردِ سر نہ ہو

خُدا جانے ، کل تم کہاں، ہم کہاں؟


یہ چرچے، یہ صُحبت، یہ عالم کہاں؟
خُدا جانے ، کل تم کہاں، ہم کہاں؟


جو خُورشید ہو تم، تو شبنم ہیں ہم
ہوئے جلوہ گر تم تو پھر ہم کہاں؟


حسِیں قاف میں گوکہ پریاں بھی ہیں
مگر اِن حسینوں کا عالم کہاں؟


الٰہی! ہے دل، جائے آرامِ غم 
نہ ہوگا جو یہ، جائے گا غم کہاں؟


کہوں اُس کے گیسُو کو سُنبل میں کیا
کہ سُنبل میں یہ پیچ، یہ خم کہاں؟


وہ زخمی ہوں میں، زخم ہیں بے نشاں
الٰہی! لگاؤں میں مرہم کہاں؟


زمانہ ہوا غرقِ طوفاں امیر 
ابھی روئی یہ چشمِ پُرنم کہاں؟

Thursday, 4 April 2013

وصل کا دن اور اتنا مختصر


تند مئے اور ایسے کمسن کے لیے
ساقیا! ہلکی سی لا اِن کے لیے

ہے جوانی خود جوانی کا سنگھار
سادگی گہنا ہے اس سن کے لیے

ساری دُنیا کے ہیں وہ میرے سوا
میں نے دُنیا چھوڑ دی جن کے لیے

وصل کا دن اور اتنا مختصر
دن گِنے جاتے تھے اس دن کے لیے

باغباں! کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی
بھیجنی ہیں ایک کمسن کے لیے


جب سے بُلبل تُو نے دو تِنکے لیے
ٹوٹتی ہیں بِجلیاں ان کے لیے

کون ویرانے میں دیکھے گا بہار
پھول جنگل میں کِھلے کن کے لیے

سب حسیں ہیں زاہدوں کو نا پسند
اب کوئی حور آئے گی ان کے لئے

صبح کا سونا جو ہاتھ آتا امیر
بھیجتے تحفہ مؤذّن کے لیے


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets