Showing posts with label گیت. Show all posts
Showing posts with label گیت. Show all posts

Tuesday, 8 December 2015

ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺭ ﭘﮧ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻨﻊ ﮨﮯ



ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺭ ﭘﮧ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ
ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻨﻊ ﮨﮯ

ﭘﯿﺎﺭﺍ ﮔﺮ ﮨﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﮰﮐﺴﯽ ﮐﻮ
ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻨﻊ ﮨﮯ

ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﮰ
ﭘﮩﻠﮯ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮭﮑﺎﮰ

ﻭﮦ ﺻﻨﻢ ﺟﻮ ﺧﺪﺍ ﺑﻦ ﮔﮱ ﮨﯿﮟ
ﺍﻥ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻨﻊ ﮨﮯ


جاگ اٹھے تو آہیں بھریں گے
حسن والوں کو رسوا کریں گے

سو گئے ہیں جو فرقت کے مارے
ان کو بیدار کرنا منع ہے

ہم نے کی عرض اے بندہ پرور
کیوں ستم ڈھا رہے ہو ہم پر

بات سن کر ہماری وہ  بولے
ہم سے تکرار کرنا منع ہے

سامنے جو کھلا ہے جھروکا
کھا نہ جانا قتیل ان کا دھوکا

اب بھی اپنے لیے اس گلی میں
شوقِ دیدار کرنا منع ہے

ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺭ ﭘﮧ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ

ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻨﻊ ﮨﮯ

Friday, 18 April 2014

انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند


انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند
کیسی انوکھی بات رے

تن کے گھاؤ تو بھر گئے داتا 
من کا گھاؤ نہیں بھر پاتا
جی کا حال سمجھ نہیں آتا
کیسی انوکھی بات رے
انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند

پیاس بُجھے کب اِک درشن میں
تن سُلگے بس ایک جلن میں
من بولے رکھ لوں نینن میں
کیسی انوکھی بات رے
انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند

جس پہ نہ بِیتی وہ کب جانے
جَگ والے آئے سمجھانے
پاگل من کوئی بات نہ مانے
کیسی انوکھی بات رے
انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند رے

Wednesday, 8 May 2013

ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح


ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح
صرف اک بار ملاقات کا موقع دے دے

اپنی آنکھوں میں چھپا رکھے ہیں جگنو میں نے
اپنی پلکوں پہ سجا رکھے ہیں آنسو میں نے
میری آنکھوں کو بھی برسات موقع دے دے

آج کی رات میرا درد ِ محبت سن لے
کپکپاتے ہوئے ہونٹوں کی شکایت سن لے
آج اظہار خیالات کا موقع دے دے

میری منزل ہے کہاں میرا ٹھکانا ہے کہاں
صبح تک تجھ سے بچھڑ کر مجھے جانا ہے کہاں
سوچنے کے لیے ایک رات کا موقع دے دے

بھولنا تھا تو یہ اقرار کیا ہی کیوں تھا
بے وفا تو نے مجھے پیار کیا ہی کیوں تھا
صرف دو چار سوالات کا موقع دے دے 

ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح
صرف اک بار ملاقات کا موقع دے دے


Friday, 29 March 2013

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں



چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی


نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے

تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے


مجھے بھی لوگ کہتے ہیں 
کہ یہ جلوئے پرائے ہیں


میرے ہمراہ 
 بھی ہیں رسوائیاں میرے ماضی کی



تمہارے ساتھ بھی گزری ہوئی یادوں کے سائے ہیں


تعارف روگ بن جائے تو اس کو بھولنا بہتر



تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا


وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن



اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا


چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں


Friday, 22 March 2013

چھوڑ آئے ہم، وہ گلیاں


چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں

جہاں ترے پیروں کے


کنول کھلا کرتے تھے


ہنسے تو دو گالوں میں


بھنور پڑا کر تے تھے


تری کمر کے بل پر


ندی مڑا کرتی تھی


ہنسی تری سُن سُن کر


فصل پکا کرتی تھی


جہاں تری ایڑی سے


دھُوپ اُڑا کرتی تھی


سنا ہے اس چوکھٹ پر


اب شام رہا کرتی ہے


دل درد کا ٹکڑا ہے
پتھر کی ڈَلی سی ہے
اِک اَندھا کنواں ہے یا 
اِک بند گلی سی ہے
اِک چھوٹا سا لمحہ ہے
جو ختم نہیں ہوتا
میں لاکھ جلاتا ہوں 
یہ بھسم نہیں ہوتا


Monday, 18 March 2013

رنگ اور نور کی بارات کسے پیش کروں


رنگ اور نور کی بارات کسے پیش کروں 
یہ مُرادوں کی حسین، رات کسے پیش کروں

میں نے جذبات نبھائے ہیں اصولوں کی جگہ
اپنے ارمان پرو لایا ہوں پُھولوں کی جگہ


تیرے سہرے کی یہ سوغات کسے پیش کروں
یہ مُرادوں کی حسیں رات کسے پیش کروں

یہ مرے شعر مرے آخری نذرانے میں
میں ان اپنوں میں ہوں جو آج سے بیگانے ہیں 
بے تعلق سی ملاقات کسے پیش کروں
یہ مُرادوں کی حسیں رات کسے پیش کروں

سُرخ جوڑے کی تب و تاب مبارک ہو تجھے
تیری آنکھوں کا نیا خواب مبارک ہو تجھے


میں یہ خواہش یہ خیالات کِسے پیش کروں 
یہ مرادوں کی حَسیں رات کسے پیش کروں 

کون کہتا ہے کہ چاہت پہ سبھی کا حق ہے
تو جسے چاہے ترا پیار اسی کا حق ہے 


مجھ سے کہہ دے میں ترا ہاتھ کسے پیش کروں
یہ مُرادوں کی حسیں رات کسے پیش کروں

Friday, 15 March 2013

زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں


زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں 
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا 

تو ملا ہے تو یہ احساس ہوا مجھ کو 
یہ میری عمر محبت کے لیے تھوڑی ہے 


اک ذرا غمِ دوراں کا بھی حق ہے جس پر 
میں نے وہ سانس بھی تیرے لیے رکھ چھوڑی ہے 


تجھ پہ ہو جاؤں گا قربان تجھے چاہوں گا 
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا 

اپنے جذبات میں نغمات رچانے کے لیے 
میں نے دھڑکن کی طرح دل میں بسایا ہے تجھے 


میں تصور بھی جدائی کا بھلا کیسے کروں 
میں نے قسمت کی قسمت کی لکیروں‌سے چرایا ہے تجھے 


پیار کا بن کے نگہبان تجھے چاہوں گا 
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا 

تیری ہر چاپ سے جلتے ہیں خیالوں‌میں چراغ 
جب بھی تو آئے جگاتا ہوا جادو آئے 


تجھ کو چھو لوں‌تو پھر اے جانِ تمنا مجھ کو 
دیر تک اپنے بدن سے تری خوشبو آئے 


تو بہاروں کا ہے عنوان تجھے چاہوں گا 
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا 

زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں 
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets