Wednesday, 5 September 2012

وہ لڑکی بھی ایک عجیب پہیلی تھی



وہ لڑکی بھی ایک عجیب پہیلی تھی
پیاسے ہونٹ تھے آنکھ سمندر جیسی تھی
سورج اس کو دیکھ کر پیلا پرتا تھا
وہ سرما کی دھوپ میں دھل کر نکلی تھی
اسکو اپنے سائے سے ڈر لگتا تھا
سوچ کے صحرا میں وہ تنہا ہرنی تھی
آتے جاتے موسم اس کو ڈستے تھے
ہنستے ہنستے پلکوں سے رو پڑتی تھی
آدھی رات گنوا دیتی تھی چپ رہ کر
آدھی رات کو چاند سے باتیں کرتی تھی
دور سے اجڑے مندر جیسا گھر اس کا
وہ اپنے گھر میں اکلوتی دیوی تھی
موم سے نازک جسم سھر کو دکھتا تھا
دیئے جلا کر شب بھر آپ پگھلتی تھی
تیز ہوا کو روک کر اپنے آنچل پر
سوکھے پھول اکٹھے کرتی پھرتی تھی
سب ظاہر کر دیتی تھی بھید اپنا
سب سے ایک تصویر چھپائے رکھتی تھی
کل شب چکنا چور ہوا تھا دل اس کا
یا پھر پہلی بار وہ دل کھول کر روئی تھی
محسن کیا جانے دھوپ سے بے پروا
وہ اپنے گھر کی دہلیز پر بیٹھی تھی ؟

سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا،سبھی راحتیں ،سبھی کلفتیں

ANA KI JANG MEN AKSAR JUDAI JEET JATI HAI



WAFA KI LAAJ MEN USKO MANAA LETAY TO ACHA THA
ANA KI JANG MEN AKSAR JUDAI JEET JATI HAI

تم آئے ہو، نہ شبِ انتظار گزری ہے


تم آئے ہو، نہ شبِ انتظار گزری ہے
تلاش میں ہے سحر، بار بار گزری ہے
جنوں میں جتنی بھی گزری، بکار گزری ہے
اگرچہ دل پہ خرابی ہزار گزری ہے
ہوئی ہے حضرتِ ناصح سے گفتگو جس شب
وہ شب ضرور سرِ کوئے یار گزری ہے
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات اُن کو بہت ناگوار گزری ہے
نہ گل کھلے ہیں، نہ اُن سے ملے، نہ مے پی ہے
عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے
چمن میں غارتِ گلچیں سے جانے کیا گزری
قفس سے آج صبا بے قرار گزری ہے

گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے


گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہرِ خدا آج ذکرِ یار چلے

کبھی تو صبح ترے کنجِ لب سے ہو آغاز
کبھی تو شب سرِ کاکل سے مشکبار چلے
بڑا ہے درد کا رشتہ، یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پہ آئیں گے غمگسار چلے

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے

حضورِ ‌یار ہوئی دفترِ جنوں کی طلب
گرہ میں لے کے گریباں کا تار تار چلے

مقام،فیض ، کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

تیرے ملنے کا اک لمحہ




تیرے ملنے کا اک لمحہ 
بس اک لمحہ سہی لیکن
بکھر جائے تو موسم ہے 
وفا کا بےکراں موسم
ازل سے مہرباں موسم
یہ موسم آنکھ میں اترے
تو رنگوں سے دہکتی روشنی کا
عکس کہلائے
یہ موسم دل میں ٹھہرے تو
سنہری سوچتی صدیوں کا گہرا نقش بن جائے
تیرے ملنے کا اک لمحہ
مقدر کی لکیروں میں
دھنک بھرنے کا موسم ہے
یہ موسم۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ !
خوبصورت شاعری کرنے کا موسم ہے!!!

جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا


جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا
صحنِ گُل چھوڑ گیا، دل میرا پاگل نکلا

جب اسے ڈھونڈنے نکلے تو نشاں تک نہ ملا
دل میں موجود رہا۔ آنکھ سے اوجھل نکلا

اک ملاقات تھی جو دل کوسدا یاد رہی
ہم جسے عمر سمجھتے تھے وہ اک پل نکلا

وہ جو افسانہء غم سن کے ہنسا کرتے تھے
اتنا روئے ہیں کہ سب آنکھ کا کاجل نکلا

ہم سکوں ڈھونڈنے نکلے تھے، پریشان رہے
شہر تو شہر ہے، جنگل بھی نہ جنگل نکلا

کون ایوب پریشاں نہیں تاریکی میں
چاند افلاک پہ،دل سینے میں بے کل نکلا


ابھی کچھ دن لگیں گے


ابھی کچھ دن لگیں گے
دل ایسے شہر کے پامال ہوجانے کا منظر بھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے

جہانِ رنگ کے سارے خس و خاشاک
سب سرو و صنوبر پھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے

تھکے ہارے ہوئے خوابوں کے ساحل پر
کہیں امید کا چھوٹا سا اک گھر
بنتے بنتے رہ گیا ہے 
وہ اک گھر بھولنے میں 
ابھی کچھ دن لگیں گے

مگر اب دن ہی کتنے رہ گئے ہیں
بس اک دن دل کی لوح منتظر پر
اچانک
رات اترے گی
میری بے نور آنکھوں کے خزانے میں چھپے
ہر خواب کی تکمیل کر دے گی
مجھے بھی خواب میں تبدیل کر دے گی
اک ایسا خواب جس کا دیکھنا ممکن نہیں تھا 
اک ایسا خواب جس کے دامن صد چاک میں کوئی مبارک
کوئی روشن دن نہیں تھا
ابھی کچھ دن لگیں گے۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔!


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets