Tuesday, 25 June 2013

آج بھی ویسا ہی موسم ہے

Urdu Poetry

درد کے تنہا موسم میں

By Muhsin Naqvi

Achaanak


Aaj main jab yunhi

Achanak

Bin chaahay be'khabar

Chaltay chaltay usi gali men aa gya

Keh jahan pehli bar

Main ney thumhen dekha tha

Aur phir

Us gali men pehli bar

Tum sey iqrar-e-wafa kia tha

To mera dil ajab be'qrari sey dharka

Yuun laga keh tum

Aachanak he kisi goshay sey

Sab ranjishen bhula kar

Mujhay thaam lo gi

ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے

وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تیری آنکھیں

Monday, 24 June 2013

اجنبی محبت صرف ایک بار دستک دیتی ہے


بڑی مدت کے بعد تیری گلی سے میرا گزر ہوا
کچھ بھولے وعدے کچھ پرانی باتیں یاد آگئيں

جو بند ہونٹوں اور بولتی آنکھوں سے تم نے کیں
پھر سے تمھاری ان کہی وہ حکائتیں یاد آگئيں

نماز کے بعد میرے لیئے اُٹھے تمھارے ہاتھ
وہ گزرے دن اور وہ مقدس ساعتیں یاد آگئيں

میں خوداری کے ہاتھوں ہر بازی ہار چکا تو
تمھاری روتی آنکھوں کی وہ شکائتیں یاد آگئیں

گیلے بالوں سے ٹپکتا پانی آنکھ سے گرتے آنسو
تم نے رو کے جو گزاريں وہ برساتیں یاد آگئيں

اجنبی محبت صرف ایک بار دستک دیتی ہے
تم نے رو کے جو کیں وہ وضاحتیں یاد آگئيں

بڑی مدت کے بعد تیری گلی سے میرا گزر ہوا
کچھ بھولے وعدے کچھ پرانی باتیں یاد آگئيں

ہجر کی سخت سرد راتوں میں


آخری خط نہ پڑھ سکا میں بھی
آس کیا دیتا رو دیا میں بھی

صرف سننے کی تاب تھی شاید
وہ بھی خاموش ، چپ رہا میں بھی

ہجر کی سخت سرد راتوں میں
وہ بھی جلتا رہا ، جلا میں بھی

آج وہ ’’آپ‘‘ پر ہی ٹھہرا رہا
فاصلہ رکھ کے ہی ملا میں بھی

اوڑھ لی اُس نے چہرے پر رونق
سامنے سب کے خوش رہا میں بھی

غلطی سے آنکھیں چار ہوتے ہی
سخت محتاط تر ہوا میں بھی

وہ بھی اُلٹی کتاب پڑھنے لگا
.کل کے اخبار میں چھُپا میں بھی

اب کے بھی تیرے لیے جاں سے گزر جائیں گے


وہاں محفل نہ سجائی جہاں خلوت نہیں کی
اُس کو سوچا ہی نہیں جس سے مُحبت نہیں کی


اب کے بھی تیرے لیے جاں سے گزر جائیں گے
ہم نے پہلے بھی مُحبت میں سیاست نہیں کی


تُم سے کیا وعدہ خلافی کی شکایت کرتے
تُم نے تو لوٹ کے آنے کی بھی زحمت نہیں کی


دھڑکنیں سینے سے آنکھوں میں سِمٹ آئی تھیں
وہ بھی خاموش تھا، ہم نے بھی وضاحت نہیں کی


گردِ آئینہ ہٹائی ہے کہ سچائی کھلے
ورنہ تم جانتے ہو ہم نے بغاوت نہیں کی


بس ہمیں عشق کی آشفتہ سری کھینچتی ہے
رزق کے واسطے ہم نے کبھی ہجرت نہیں کی


آ، ذرا دیکھ لیں دنیا کو بھی، کس حال میں ہے
کئی دن ہو گئے دُشمن کی زیارت نہیں کی


تم نے سب کُچھ کیا، انسان کی عزت نہیں کی
کیا ہوا وقت نے جو تم سے رعایت نہیں کی

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets