😊 I love poetry and specially Urdu poetry. I am here to share my favourite poetry with you. I hope you like it and please don't forget to show your love by liking, commenting and following the blog. 😊
Tuesday, 25 June 2013
Achaanak
Aaj main jab yunhi
Achanak
Bin chaahay be'khabar
Chaltay chaltay usi gali men aa gya
Keh jahan pehli bar
Main ney thumhen dekha tha
Aur phir
Us gali men pehli bar
Tum sey iqrar-e-wafa kia tha
To mera dil ajab be'qrari sey dharka
Yuun laga keh tum
Aachanak he kisi goshay sey
Sab ranjishen bhula kar
Mujhay thaam lo gi
Monday, 24 June 2013
اجنبی محبت صرف ایک بار دستک دیتی ہے
بڑی مدت کے بعد تیری گلی سے میرا گزر ہوا
کچھ بھولے وعدے کچھ پرانی باتیں یاد آگئيں
جو بند ہونٹوں اور بولتی آنکھوں سے تم نے کیں
پھر سے تمھاری ان کہی وہ حکائتیں یاد آگئيں
نماز کے بعد میرے لیئے اُٹھے تمھارے ہاتھ
وہ گزرے دن اور وہ مقدس ساعتیں یاد آگئيں
میں خوداری کے ہاتھوں ہر بازی ہار چکا تو
تمھاری روتی آنکھوں کی وہ شکائتیں یاد آگئیں
گیلے بالوں سے ٹپکتا پانی آنکھ سے گرتے آنسو
تم نے رو کے جو گزاريں وہ برساتیں یاد آگئيں
اجنبی محبت صرف ایک بار دستک دیتی ہے
تم نے رو کے جو کیں وہ وضاحتیں یاد آگئيں
بڑی مدت کے بعد تیری گلی سے میرا گزر ہوا
کچھ بھولے وعدے کچھ پرانی باتیں یاد آگئيں
ہجر کی سخت سرد راتوں میں
آخری خط نہ پڑھ سکا میں بھی
آس کیا دیتا رو دیا میں بھی
صرف سننے کی تاب تھی شاید
وہ بھی خاموش ، چپ رہا میں بھی
ہجر کی سخت سرد راتوں میں
وہ بھی جلتا رہا ، جلا میں بھی
آج وہ ’’آپ‘‘ پر ہی ٹھہرا رہا
فاصلہ رکھ کے ہی ملا میں بھی
اوڑھ لی اُس نے چہرے پر رونق
سامنے سب کے خوش رہا میں بھی
غلطی سے آنکھیں چار ہوتے ہی
سخت محتاط تر ہوا میں بھی
وہ بھی اُلٹی کتاب پڑھنے لگا
.کل کے اخبار میں چھُپا میں بھی
اب کے بھی تیرے لیے جاں سے گزر جائیں گے
وہاں محفل نہ سجائی جہاں خلوت نہیں کی
اُس کو سوچا ہی نہیں جس سے مُحبت نہیں کی
اب کے بھی تیرے لیے جاں سے گزر جائیں گے
ہم نے پہلے بھی مُحبت میں سیاست نہیں کی
تُم سے کیا وعدہ خلافی کی شکایت کرتے
تُم نے تو لوٹ کے آنے کی بھی زحمت نہیں کی
دھڑکنیں سینے سے آنکھوں میں سِمٹ آئی تھیں
وہ بھی خاموش تھا، ہم نے بھی وضاحت نہیں کی
گردِ آئینہ ہٹائی ہے کہ سچائی کھلے
ورنہ تم جانتے ہو ہم نے بغاوت نہیں کی
بس ہمیں عشق کی آشفتہ سری کھینچتی ہے
رزق کے واسطے ہم نے کبھی ہجرت نہیں کی
آ، ذرا دیکھ لیں دنیا کو بھی، کس حال میں ہے
کئی دن ہو گئے دُشمن کی زیارت نہیں کی
تم نے سب کُچھ کیا، انسان کی عزت نہیں کی
کیا ہوا وقت نے جو تم سے رعایت نہیں کی
Subscribe to:
Posts (Atom)
!-end>!-currency>
