Friday, 6 June 2014

اُس گھڑی یوں لگا



کپکپاتے لبوں سے جو اُس 

نے کہا

اب یہ طے ہے کہ ہم کو بچھڑ جانا ہے

اُس گھڑی یوں لگا

یہ اَنا بھی کسی ایسے حاکم سے کم تو نہیں

جس کے دربار میں بات جیسی بھی ہو

اُس کی تائید میں ہاتھ اُٹھانا پڑے

سر جھکانا پڑے

آئینہ خانہ



مقید ہوں میں اِک آئینہ خانے میں
یہ کیسا آئینہ خانہ ہے
جس میں میرے چہرے کی جگہ
اب ہر طرف تیرا ہی چہرہ ہے
رہائی کی کوئی صورت نہیں ممکن
بدن سے روح تک پھیلے
سفالِ جاں کے ذرّے ذرّے پر جاناں
عجب رُخ سے
ترے شوریدہ چشم و لب کا پہرا ہے

Thursday, 5 June 2014

ﻗﺴﻤﺖ



ﺗُﻮ ﻣﺠﮭﮯﮐﮩﺎﮞ ﺭﮐﮫ ﮐﮯﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﯽ
ﻣﯿﻠﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﮔﭩﮭﮍﯼ ﻣﯿﮟ
ﺑﺮﺗﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻟﻤﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ
ﻗﺪ ﺳﮯ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺷﯿﻠﻒ ﭘﺮ
ﻣﻘﻔّﻞ ﺩﺭﺍﺯ ﻣﯿﮟ

ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﮐﺴﯽ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﮔﻮﺷﮯ ﻣﯿﮟ
ﻗﺴﻤﺖ! ﮐﭽﮫ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ
ﺗُﻮ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﮈﺍﻻ ﺗﮭﺎ
ﺍﭼﺎﺭ ﮐﮯ ﻣﺮﺗﺒﺎﻥ ﻣﯿﮟ
ﻣﺮﭼﻮﮞ ﮐﮯ ﮈﺑّﮯ ﻣﯿﮟ
ﻣﺎﭼﺲ ﮐﯽ ﮈﺑﯿﺎ ﻣﯿﮟ
ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﮐﯿﺲ ﻣﯿﮟ
ﻗﺴﻤﺖ! ﯾﺎﺩ ﮐﺮ
ﺗُﻮ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ؟
ﭼﻮﻟﮭﮯ ﮐﯽ ﺭﺍﮐﮫ ﻣﯿﮟ
ﯾﺎ ﭘﮭﺮ
ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺧﺎﮎ ﻣﯿﮟ....!!

تُجھ سے ھاریں کہ، تُجھے مات کریں


تُجھ سے خوشبو کے مراسم ھیں، تُجھے کیسے کہیں
میری سوچوں کا اُفق، تیری محبت کا فسوں
میرے جذبوں کا دل، تیری عنایت کی نظر
کیسے خوابوں کے جزیروں کو ہم تاراج کریں
تُجھ کو بھولیں کہ، تُجھے یاد کریں

اب کوئی اور نہیں میری تمنا کا دل
اب تو باقی ھی نہیں کچھ، جسے برباد کریں
تیری تقسیم کسی طور ہمیں منظور نہ تھی
پھر سرِبزم جو آئے تو، تہی داماں آئے
چُن لیا دردٍ مسیحائی، تیری دلدار نگاہی کے عوض
ہم نے جی ھار دیئے، لُٹ بھی گئے
کیسےممکن ھے بھلا،خود کو تیرے سحر سے آزاد کریں
تُجھ کو بھولیں کہ، تُجھے یاد کریں

اِس قدر سہل نہیں میری چاھت کا سفر
ھم نے کانٹے بھی چُنے روح کے آزار بھی سہے
ھم سے جذبوں کی شرح ھو نہ سکی، کیا کرتے
بس تیری جیت کی خواہش نے کیاھم کونڈھال
اب اِسی سوچ میں گذریں گے مہ و سال میرے
تُجھ سے ھاریں کہ، تُجھے مات کریں

اور پھر میری ہستی راکھ ہو کر تیرے قدم چھوئے گی













یہ تیری محبت تھی
جو اس پیکر میں ڈھلی
اب پیکرسلگے گا
تو ایک دھواں سا اٹھے گا
دھوئیں کا لرزاں بدن
آہستہ سے کہے گا
جو بھی ہوا بہتی ہے
درگاہ سے گذرتی ہے
تیری سانسوں کو چھوتی ہے
سائیں..!! آج مجھے
اس ہوا میں ملنا ہے
سائیں..!! تو اپنی چلم سے
تھوڑی سی آگ دے دے

میں تیری اگر بتی ہوں
اور تیری درگاہ پر مجھے
ایک گھڑی جلنا ہے۔ ۔ ۔
جب بتی سلگ جا ئے گی
ہلکی سی مہک آئے گی
اور پھر میری ہستی
راکھ ہو کر
تیرے قدم چھوئے گی
اسے تیری درگاہ کی
مٹی میں ملنا ہے۔ ۔ ۔

سائیں..!! تو اپنی چلم سے
تھوڑی سی آگ دے دے
میں تیری اگر بتی ہوں
اور تیری درگاہ پر مجھے
ایک گھڑی جلنا ہے۔ ۔

ﺍﺯﻝ ﺳﮯ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ


ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺮﺩﮮ
ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺩﯾﮑﮫ ﭘﺎﺅ ﮔﮯ
ﻭﮦ ﺳﺐ ﭼﯿﺰﯾﮟ
ﺟﻮ ﺗﺎﺭﯾﮑﯽ ﮐﮯ ﮔﮩﺮﮮ ﺍﺳﻮﺩﯼ
ﻣﺤﻠﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ہیں
ﺳﺮﺍﭘﺎ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ
ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﺍ
ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﺎ ﺑﺪﻥ
ﺁﻭﺍﺯ ﮐﮯ ﻟﺐ
ﺩﺭﺩ ﮐﮯ ﮈﻣﭙﻞ
ﺧﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﻣﺮﻣﺮﯾﮟ ﭘﺎﺅﮞ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺣﻨﺎﺋﯽ ﺍﻧﮕﻠﯿﺎﮞ
ﺁﻓﺎﻕ ﺯﻟﻔﻮﮞ ﮐﮯ
ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﺳﺮﻣﺪﯼ ﺳﺎﯾﮧ....

ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺮ ﺩﮮ
ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺩﯾﮑﮫ ﭘﺎﺅ ﮔﮯ
ﺍﺑﺪ ﮐﯽ ﺩﮬﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﭩﯽ
ﺍﺯﻝ ﺳﮯ ﻣﻨﺘﻈﺮ
ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ.....!!

Wednesday, 4 June 2014

بن تیرے ہر سانس گھائل ہے











میں تیری سانسوں کی تاروں میں ہوں
آسماں پر چمکتے ہوئے سب ستاروں میں ہوں
میں ۔ ۔ ۔ سمندر کی ہر اک لہر میں
ترے گزرے ہر پہر میں ہوں
تری آنکھ میں تیرتی سب گلابی
مرے نام کی ہے
ترے لہجے کی سب تھکن
میری ہی یاد کی ہے ‘‘
مرے ہم نشیں
تُو یہ کہتا ہے
’بن تیرے ہر سانس گھائل ہے
پر کیا کروں
بیچ میں زمانہ یہ حائل ہے‘‘
اے ہم نشیں سچ بتا
کیا ترا دل بھی قائل ہے
کہ بیچ اپنے زمانہ ہی حائل ہے؟

ہم دشتِ جنوں کے سودائی



ہم دشتِ جنوں کے سودائی۔۔۔ ۔۔۔ ۔
ہم گردِ سفر، ہم نقشِ قدم۔۔
ہم سوزِطلب، ہم طرزِ فغاں---
ہم رنج چمن، ہم فصل خزاں ۔۔۔ 
ہم حیرت و حسرت و یاس و الم---
ہم دشت جنوں کے سودائی

یہ دشتِ جنوں، یہ پاگل پن ۔۔
یہ پیچھا کرتی رسوائی---
یہ رنج و الم، یہ حزن و ملال۔۔۔ 
یہ نالہء شب، یہ سوزِ کمال---
دل میں کہیں بے نام چبھن۔۔
اور حدِ نظر تک تنہائی ---
ہم دشتِ جنوں کے سودائی---

اب جان ہماری چُھوٹے بھی۔۔
یہ دشتِ جنوں ہی تھک جائے --
جو روح و بدن کا رشتہ تھا۔۔
کئی سال ہوئے وہ ٹوٹ گیا --
اب دل کا دھڑکنا رک جائے۔۔
اب سانس کی ڈوری ٹوٹے بھی --
ہم دشتِ جنوں کے سودائی۔۔۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets