Friday, 17 April 2015

بیتی ہے اک عمر تمہیں ڈھونڈتے ہوے

[​IMG]

ان جھیل سی گہری آنکھوں میں


حقیقت کو بنا دیتی ہیں افسانے تری آنکھیں



متاع کوثر و زمزم کے پیمانے تری آنکھیں
فرشتوں کو بنا دیتی ہیں دیوانے تری آنکھیں

جہان رنگ و بو الجھا ہوا ہے ان کے ڈوروں میں 
لگی ہیں کاکل تقدیر سلجھانے تری آنکھیں

اشاروں سے دلوں کو چھیڑ کر اقرار کرتی ہیں
اٹھاتی ہیں بہارِ نو کے نذرانے تری آنکھیں

وہ دیوانے زمام لالہ و گل تھام لیتے ہیں
جنہیں منسوب کر دیتی ہیں ویرانے تری آنکھیں

شگوفوں کو شراروں کا مچلتا روپ دیتی ہیں
حقیقت کو بنا دیتی ہیں افسانے تری آنکھیں

تیرے آنے کی جب خبر مہکے



تیرے آنے کی جب خبر مہکے
تیری خوشبو سے سارا گھر مہکے

شام مہکے تیرے تصور سے
شام کے بعد پھر سحر مہکے

رات بھر سوچتا رہا تجھ کو
ذہن و دل میرے رات بھر مہکے

یاد آئے تو دل منور ہو
دید ہو جائے تو نظر مہکے

تو گھڑی دو گھڑی جہاں بیٹھے
وہ زمیں مہکے وہ شجر مہکے

اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ بلٹے



خوش چشم وخوش اطوار و خوش آور و خوش آندام



وہ یار پری چہرہ کہ کل شب کو سدھارا
طوفاں تھا، طلاطم تھا چھلاوہ تھا شرارا

گل بیز و گہر ریز و گہر و گہر تاب
کلیوں نے جسے رنگ دیا گل نے سنواراہ

نو خستہ و نورس و نو طلعت و نو خیز
وہ نقش جسے خود یدِ قدرت نے ابھارا

خوں ریز کم آمیز و دل آویز و جنوں خیز
ہنستا ہوا مہتاب ، دمکتا ہو تارا

خوش چشم وخوش اطوار و خوش آور و خوش آندام 
ایک خال پہ قرباں سمر قندو بخارا

گل پیرہن و گل بدن و گل رخ و گل رنگ
ایمان شکن، آئینہ جبیں انجمن آرا

سرشار جوانی تھی کہ امڈے ہوئے بادل
شاداب تبسم تھا کہ جنت کا نظارا

زلفیں تھیں کہ ساون کی مچلتی ہوئی راتیں
شوخی تھی کہ سیلاب کا مڑتا ہوا دھارا​

مرے مولا یہ حسیں ہاتھ سلامت رکھنا



مرے مولا یہ حسیں ہاتھ سلامت رکھنا 
ایسا لگتا ہے جو یہ ہاتھ دعا کو اٹھیں 
خود فرشتے چلے آتے ہوں زمیں کی جانب 
سونپ کر مرمریں ہاتھوں کی ہتھیلی کو حناء 
جو بھی مانگا ہو وہ چپ چاپ دیے جاتے ہوں 
میرے مولا یہ حسیں ہاتھ سلامت رکھنا

ان کی خوشبو سے معطر ہے مرا سارا وجود 
انہی ہاتھوں میں مرے خواب چُھپے ہیں مولا 
اُنگلیاں مجھ کو محبت میں بھگو دیتی ہیں 
انہی پوروں نے مرے درد چُنے ہیں مولا 
ان کی رگ رگ میں محبت ہی محبت رکھنا 
میرے مولا یہ حسیں ہاتھ سلامت رکھنا 

اِنہی ہاتھوں کی لکیروں میں مقدر ہے مرا 
یہ جو کونے میں ستارہ ہے سکندر ہے مرا 
خواب سے نرم خیالوں کی طرح نازک ہیں 
ان کے ہر لَمس میں میرے لئے چاہت رکھنا 
مرے مولا یہ حسیں ہاتھ سلامت رکھنا 
مرے مولا یہ حسیں ہاتھ سلامت رکھنا 

آخر شب کے ہمسفر


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets