Friday, 17 April 2015

درد پھولوں کی طرح مہکیں، اگر تُو آئے

jessica lynn hepner,violin,alone,girl,loneliness,sad

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے

درد پھولوں کی طرح مہکیں، اگر تُو آئے

بھیگ جاتی ہیں اس امید پر آنکھیں ہر شام

شاید اس رات وہ مہتاب، لبِ جُو آئے

ہم تیری یاد سے کترا کے گزر جاتے، مگر

راہ میں پھولوں کے لب، سایوں کے گیسو آئے

وہی لب تشنگی اپنی، وہی ترغیبِ سراب

دشتِ معلوم کی، ہم آخری حد چھو آئے

سینے ویران ہوئے، انجمن آباد رہی

کتنے گل چہرے گئے، کتنے پری رُو آئے

آزمائش کی گھڑی سے گزر آئے تو ضیا

جشنِ غم جاری ہوا، آنکھ میں آنسو آئے

بڑا ویران موسم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

sad,sadness,sad girl,pain,cry,crying,tears

بڑا ویران موسم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

ہر اک جانب تیرا غم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

ہمارا دل کسی گہری جدائی کے بھنور میں ہے

ہماری آنکھ بھی نم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

مرے ہم راہ اگرچہ دور تک لوگوں کی رونق ہے

مگر جیسے کوئی کم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

تمہیں تو علم ہے میرے دل وحشی کے زخموں کو

تمہارا وصل مرہم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

اندھیری رات کی گہری خموشی اور تنہا دل

دیئے کی لو بھی مدھم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

تمہارے روٹھ جانے سے ہم کو ایسا لگتا ہے

مقدر ہم سے برہم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

ہواؤں اور پھولوں کی نئی خوشبو بتاتی ہے

ترے آنے کا موسم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

وہ دل کہ تیرے لیے بیقرار اب بھی ہے


تیرے خوشبو میں بسے خط میں جلاتا کیسے


تیری آنکھیں

[​IMG]

بھولی لڑکی


غم عشق کتنا عجیب ہے


بیتی ہے اک عمر تمہیں ڈھونڈتے ہوے

[​IMG]
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets