Tuesday, 28 August 2012

تجھے بھلا کے جیوں ایسی بددعا بھی نہ دے



تجھے بھلا کے جیوں ایسی بددعا بھی نہ دے 
خدا مجھے یہ تحمل یہ حوصلہ بھی نہ دے 

مرے بیان صفائی کے درمیاں مت بول 
سنے بغیر مجھے اپنا فیصلہ بھی نہ دے 

یہ عمر میں نے ترے نام بے طلب لکھ دی 
بھلے سے دامن دل میں کہیں جگہ بھی نہ دے 

یہ دن بھی آئیں گے ایسا کبھی نہ سوچا تھا 
وہ مجھ کو دیکھ بھی لے اور مسکرا بھی نہ دے 

یہ رنجشیں تو محبت کے پھول ہیں ساجد 
تعلقات کو ا س بات پر گنوا بھی نہ دے

کیا خبر کون زوالِ شبِ ہجراں دیکھے؟



بے کراں رات میں تُو انجمن آرا ہے کہ ہم
اے زمیں تُو اس اندھیرے کا ستارہ ہے کہ ہم

اُس نے پوچھا تھا کہ سر بیچنے والا ہے کوئی
ہم نے سر نامۂ جاں نذر گزارا ہے کہ ہم

کیا خبر کون زوالِ شبِ ہجراں دیکھے؟
یاں چراغِ شبِ ہجراں کا اشارہ ہے کہ ہم

تُو اِدھر کس کو ڈبونے کے لئے آئی تھی
دیکھ اے موجِ بلا خیز کنارہ ہے کہ ہم

آج تک معرکۂ صبر و ستم جاری ہے
کون جانے یہ تماشا اسے پیارا ہے کہ ہم

وہی ہے رنگِ جنوں ، ترکِ ربط و ضبط پہ بھی



یہی نہیں کہ فقط ہم ہی اضطراب میں ہیں 
ہمارے بھولنے والے بھی اس عذاب میں ہیں 

اسی خیال سے ہر شام جلد نیند آئی 
کہ مجھ سے بچھڑے ہوئے لوگ شہرِ خواب میں ہیں 

وہی ہے رنگِ جنوں ، ترکِ ربط و ضبط پہ بھی 
تری ہی دھن میں ہیں اب تک اسی سراب میں ہیں 

عزیز کیوں نہ ہو ماضی کا ہر ورق ہم کو 
کہ چند سوکھے ہوئے پھول اس کتاب میں ہیں 

شناوروں کی رسائی کے منتظر ساجد 
ہم اپنے عہد کے اک شہرِ زیر آب میں ہیں

مجھے سارے رنج قبول ہیں اُسی ایک شخص کے پیار میں



مجھے سارے رنج قبول ہیں اُسی ایک شخص کے پیار میں 
مری زیست کے کسی موڑ  پر جو مجھے ملا تھا بہار میں 

وہی اک امید ہے آخری اسی ایک شمع سے روشنی 
کوئی اور اس کے سوا نہیں, میری خواہشوں کے دیار میں 

وہ یہ جانتے تھے کہ آسمانوں, کے فیصلے ہیں کچھ اور ہی 
سو ستارے دیکھ کے ہنس پڑے مجھے تیری بانہوں کے ہار میں 

یہ تو صرف سوچ کا فرق ہے یہ تو صرف بخت کی بات ہے 
کوئی فاصلہ تو نہیں, تیری جیت میں میری ہار میں 

ذرا دیکھ شہر کی رونقوں سے پرے بھی کوئی جہان ہے 
کسی شام کوئی دیا جلا کسی دل جلے کے مزار میں 

کسی چیز میں کوئی ذائقہ کوئی لطف باقی نہیں رہا 
نہ تیری طلب کے گداز میں نہ میرے ہنر کے وقار میں

یوں دل میں تیری یاد اتر آتی ہے جیسے



یوں دل میں تیری یاد اتر آتی ہے جیسے 
پردیس میں غم ناک خبر آتی ہے جیسے 

آتی ہے تیرے بعد خوشی بھی تو کچھ ایسے 
ویران درختوں پہ سحر آتی ہے جیسے 

لگتاہے ابھی دل نے تعلق نہیں توڑا 
یہ آنکھ تیرے نام پہ بھر آتی ہے جیسے 

خود آپ ہوا روز ا ٹھاتی ہے دعائیں 
اور آپ کہیں دفن بھی کر آتی ہے جیسے 

اک قافلۂ ہجر گذرتا ہے نظر سے 
اور روح تلک گرد سفر آتی ہے جیسے 

جلتا ہے کوئی شہر کبھی دامن دل میں 
سانسوں میں کبھی راکھ اتر آتی ہے جیسے

اب بھی نوحے ہیں جدائی کے وہی ماتم ہے


جانے یہ کیسی تیرے ہجر میں ٹھانی دل نے 
پھر کسی اور کی کچھ بات نہ مانی دل نے 

ایک وحشت سے کسی دوسری وحشت کی طرف 
اب کے پھر کی ہے کوئی نقل مکانی دل نے 

اب بھی نوحے ہیں جدائی کے وہی ماتم ہے 
ترک کب کی ہے کوئی رسم پرانی دل نے 

بات بے بات جو بھر آتی ہیں آنکھیں اپنی 
یاد رکھی ہے کسی دکھ کی کہانی دل نے 

ڈوبتی شام کے ویران سمے کی صورت 
تھام رکھی ہے تیری ایک نشانی دل نے


Kuch Is Ada Say Aaj Woh Pehlu Nasheen Rahay



Kuch Is Ada Say Aaj Woh Pehlu Nasheen Rahay, 
Jab Tak Hamaray Paas Rahay, Hum Nahin Rahay! 

Ya_RAB Kisi Kay Raaz_E_Muhabbat Ki Khair Ho, 
Dast_E_Junoon Rahay Na Rahay, Aastin Rahay! 

Dard_E_Ghum_E_Firaaq Kay Yeh Sakht Marhalay, 
Hairaan Hoon Mein Keh Phir Bhi Tum, Itnay Haseen Rahay! 

Ja Aur Koi Zabt Ki Duniya Talaash Kar, 
Aey Ishq Hum To Ab Teray, Qaabil Nahin Rahay! 

Allah Ray Chashm-e-yaar Ki Maujiz Bayanian
Her Ik Ko Hai Gumaan Keh Mukhatib Humhi Rahay

Is Ishq Ki Talaafi_E_Maafaat Dekhna, 
Ronay Ki Hasratein Hain Jab, Aansu Nahin Rahay......! 


رات آنکھوں میں ڈھلی پلکوں پہ جگنو آئے



رات آنکھوں میں ڈھلی پلکوں پہ جگنو آئے
ہم ہواؤں کی طرح جاکے اسےچھو آئے
اس کا دل دل نہیں پتھر کا کلیجہ ہوگا
جس کو پھولوں کا ہنر آنسو کا جادو آئے
بس گئی ہےمرےاحساس میں یہ کیسی مہک
کوئی خوشبو میں لگاؤں تیری خوشبو آئے
خوبصورت ہیں بہت دنیاکے جھوٹے وعدے
پھول کاغذ کےلیے کانچ کے بازو آئے
اس نے چھو کر مجھے پتھر سے پھر انساں کیا
مدتوں بعد میری آنکھوں میں آنسو آئے

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets