Thursday, 23 January 2014

شیشۂ جاں میں بس اک شخص کا چہرا دیکھا



عمر بھر شامِ غمِ خواب کا راستہ دیکھا 
شیشۂ جاں میں بس اک شخص کا چہرا دیکھا 

خواب کی آب ستاروں کی طرح بجھنے لگی 
نیند میں ڈوبے ہوئے شہر کا نقشہ دیکھا 

بے نوائی تیری صورت میری آواز میں تھی 
لفظ در لفظ اک آواز کا رشتہ دیکھا 

چار جانب تھا اندھیرا میری بینائی کا 
پسِ دیوارِ وفا، دن کا اُجالا دیکھا 

زخم در زخم اک انگشتِ حنائی دیکھی 
ریگ در ریگ چمکتا ہوا شیشہ دیکھا

تابشِ تیغ سے چندھیا گئیں آنکھیں خاور
دیکھنے والوں نے کب قتل کیا حیلہ دیکھا

Wednesday, 22 January 2014

پھر دل نے کیا ترک تعلق کا ارادہ

یہ ہجر و وصال بھی عجب ہیں



آئینوں میں خواب ایک سے ہیں
موسم سرِ آب ایک سے ہیں

ہر شخص کے دکھ الگ الگ ہیں
پڑھیے تو نصاب ایک سے ہیں

آنکھیں ہوں، ستارہ ہو کہ جگنو
یہ سارے شہاب ایک سے ہیں

یہ ہجر و وصال بھی عجب ہیں
دونوں کے عذاب ایک سے ہیں

اس کوفۂ تشنگی میں خاور
دریا و سراب ایک سے ہیں

Monday, 20 January 2014

درد کی بارش

مجھ کو جینے کی دعا دو گے تو مر جا'ونگی

دل ٹوٹے تو پھر کب جسم سنبھلتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ؟

 

جیسے پہاڑ پھسلتا ہے 
دھیرے دھیرے اور پھر یکدم جیسے پہاڑ پھسلتا ہے 
اِک مدَّت تک دُکھ کا شعلہ اندر اندر جلتا ہے
کوئی شے آسائش کو آزار بناتی رہتی ہے 
کھوکھلی خواہش جینے کو دشوار بناتی رہتی ہے
تنھائی چھپ چھپ کر دل میں خار بناتی رہتی ہے
مٹی مٹتے مٹتے بھی آثار بناتی رہتی ہے
گدلا چشمہ قطرہ قطرہ آنسو آنسو ڈھلتا ہے 
سارے کاہی خاکی بندھن اک اک کرکے ٹوٹتے ہیں
گیلی مٹی رفتہ رفتہ حوصلہ چھوڑتی جاتی ہے
اور پھر ایک دن 
خاک کا تودہ چلتا ہے
منظر رنگ بدلتا ہے 
دل ٹوٹے تو پھر کب جسم سنبھلتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ؟

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets