تم اپنی صبحوں کے رنگ لکھنا کہ اپنی راتوں کے خواب لکھنا
بس کرنا اتنا جہاں بھی رہنا میرے خطوں کے جواب لکھنا
پھر اتنی فر صت کسے ملے گی کہ مل بیٹھیں تو حال پوچھیں
مگر خطوں میں ہر ایک وعدے، ہر ایک قسم کا حساب لکھنا
مجھے تو تم نے قریب رہ کر بھی خیر جو اذیتیں دیں
تم اب جدائی کے موسموں میں اُٹھانا جو عذاب لکھنا
کبھی جو کچے گھڑے کا قصہ تیری وفا کو غرور بخشے
عبور جب بھی کرنا چاہے ملامتوں کا عذاب لکھنا
تیری پریشانیوں کی خبریں یہ دکھی آنکھیں نہ پڑھ سکیں گی
بدن میں کانٹے بھی چبھ رہے ہوں حرف گلہ گلاب لکھنا
ہزار باتیں ہیں ،چار راتیں ہیں ،اس سے کیا کیا کہو گے خاور
وہ چہرہ پڑھ پڑھ کے یاد کر لو وہ جا چکے تو کتاب لکھنا
بس کرنا اتنا جہاں بھی رہنا میرے خطوں کے جواب لکھنا
پھر اتنی فر صت کسے ملے گی کہ مل بیٹھیں تو حال پوچھیں
مگر خطوں میں ہر ایک وعدے، ہر ایک قسم کا حساب لکھنا
مجھے تو تم نے قریب رہ کر بھی خیر جو اذیتیں دیں
تم اب جدائی کے موسموں میں اُٹھانا جو عذاب لکھنا
کبھی جو کچے گھڑے کا قصہ تیری وفا کو غرور بخشے
عبور جب بھی کرنا چاہے ملامتوں کا عذاب لکھنا
تیری پریشانیوں کی خبریں یہ دکھی آنکھیں نہ پڑھ سکیں گی
بدن میں کانٹے بھی چبھ رہے ہوں حرف گلہ گلاب لکھنا
ہزار باتیں ہیں ،چار راتیں ہیں ،اس سے کیا کیا کہو گے خاور
وہ چہرہ پڑھ پڑھ کے یاد کر لو وہ جا چکے تو کتاب لکھنا
No comments:
Post a Comment