Wednesday, 10 October 2012

کبھی جو کچے گھڑے کا قصہ تیری وفا کو غرور بخشے



تم اپنی صبحوں کے رنگ لکھنا کہ اپنی راتوں کے خواب لکھنا
بس کرنا اتنا جہاں بھی رہنا میرے خطوں کے جواب لکھنا

پھر اتنی فر صت کسے ملے گی کہ مل بیٹھیں تو حال پوچھیں
مگر خطوں میں ہر ایک وعدے، ہر ایک قسم کا حساب لکھنا

مجھے تو تم نے قریب رہ کر بھی خیر جو اذیتیں دیں
تم اب جدائی کے موسموں میں اُٹھانا جو عذاب لکھنا

کبھی جو کچے گھڑے کا قصہ تیری وفا کو غرور بخشے
عبور جب بھی کرنا چاہے ملامتوں کا عذاب لکھنا

تیری پریشانیوں کی خبریں یہ دکھی آنکھیں نہ پڑھ سکیں گی
بدن میں کانٹے بھی چبھ رہے ہوں حرف گلہ گلاب لکھنا

ہزار باتیں ہیں ،چار راتیں ہیں ،اس سے کیا کیا کہو گے خاور
وہ چہرہ پڑھ پڑھ کے یاد کر لو وہ جا چکے تو کتاب لکھنا

No comments:

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets