Wednesday, 29 August 2012

جھلملاتے ہوئے اشکوں کی لڑی ٹوٹ گئی



محفلیں لُٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا
ساز خاموش ہیں نغمات نے دم توڑ دیا

ہر مسرت غمِ دیروز کا عنوان بنی 
وقت کی گود میں لمحات نے دم توڑ دیا 

اَن گِنت محفلیں محرومِ چراغاں ہیں ابھی 
کون کہتا ہے کہ ظلمات نے دم توڑدیا 

اَن گِنت محفلیں محرومِ چراغاں ہیں ابھی 
کون کہتا ہے کہ ظلمات نے دَم توڑدیا 

آج پھر بُجھ گئے جَل جَل کے امیدوں کے چراغ 
آج پھر تاروں بھری رات نے دَم توڑدیا 

جن سے افسانۂ ہستی میں تسلسل تھا کبھی 
اُن محبّت کی روایات نے دم توڑدیا 

جھلملاتے ہوئے اشکوں کی لڑی ٹوٹ گئی 
جگمگاتی ہوئی برسات نے دم توڑ دیا 

ہائے آدابِ محبّت کے تقاضے ساغر 
لب ہلے اور شکایات نے دم توڑدیا 

رُودادِ محبّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کچھ بھول گئے



رُودادِ محبّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کچھ بھول گئے 
دو دِن کی مُسرّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

جب جام دیا تھا ساقی نے جب دور چلا تھا محفل میں 
اِک ہوش کی ساعت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گیے 

اب وقت کے نازک ہونٹوں پر مجروح ترنّم رقصاں ہے 
بیدادِ مشیّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بُھول گئے

احساس کے میخانے میں کہاں اَب فکر و نظر کی قندیلیں
آلام کی شِدّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے 

کُچھ حال کے اندھے ساتھی تھے کُچھ ماضی کے عیّار سجن 
احباب کی چاہت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے 

کانٹوں سے بھرا ہے دامنِ دِل شبنم سے سُلگتی ہیں پلکیں 
پُھولوں کی سخاوت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے 

اب اپنی حقیقت بھی ساغر بے ربط کہانی لگتی ہے 
دُنیا کی کی حقیقت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے 

Tum Agar Younhi Nazrain Milatay Rahay


Tum Agar Younhi Nazrain Milatay Rahay May Kashi Meray Ghar Sey Kahan Jaaye Gi
Aur Yeh Silsila Mustakil Ho To Phir Be'khudi Meray Ghar Sey Kahan Jaaye Gi

Aik Zamaney Kay Bad Aaee Hai Shaam-e-gham, Shaam-e-gham Meray Ghar Sey Kahan Jaaye Gi
Meri Qismat Men Hai Jo Tumhari Kami, Woh Kami Meray Ghar Sey Kahan Jaaye Gi

Shama Ki  Ab Mujhay Kuch Zarurat Naheen, Naam Ko Bhi Shab-e-ghum Men Zulmat Nahi

Mera Har Dagh-e-dil Kam Nahee Chand Sey, Chandni Meray Ghar Sey Kahan Jaaye Gi

Tu Ney Jo Gham Diay Woh Khushi Sey Liay, Tujh Ko Dekha Naheen Phir Bhi Sajday Kiay
Itna Mazboot Hai Jab Aqeeda Mera, Bandgi Meray Ghar Sey Kahan Jaaye Gi

Zaraf Wala Koi Saamney Aaye To, Main Dekhoon Usay Zara Us Ko Apnaaye To
Meri Hamraaz Yeh Us Ka Humraaz Main, Be'kasi Meray Ghar Se Kahan Jaaye Gi

Jo Koi Bhi Teri Raah Men Mar Gaya, Apni Hasti Ko Woh Javidaan Kar Gaya
Main Shaheed-e-wafa Ho Gaya Hoon To Kaya, Zindagi Meray Ghar Sey Kahan Jaaye Gi 



تم اگر یوں ہی نظریں ملاتے رہے

مے کشی میرے گھر سے کہاں جائے گی

اور یہ سلسلہ مستقل ہو تو پھر

بے خودی میرے گھر سے کہاں جائے گی

اک زمانے کے بعد آئی ہے شامِ غم

شامِ غم میرے گھر سے کہاں جائے گی

میری قسمت میں ہے جو تمہاری کمی

وہ کمی میرے گھر سے کہاں جائے گی

شمع کی اب مجھے کچھ ضرورت نہیں

نام کو بھی شبِ غم میں ظلمت نہیں

میرا ہر داغِ دل کم نہیں چاند سے

چاندنی میرے گھر سے کہاں جائے گی

تو نے جو غم دیے وہ خوشی سے لیے

تجھ کو دیکھا نہیں پھر بھی سجدے کیے

اتنا مضبوط ہے جب عقیدہ میرا

بندگی میرے در سے کہاں جائے گی

ظرف والا کوئی سامنے آئے تو

میں بھی دیکھوں ذرا اس کو اپنائے تو

میری ہم راز یہ، اس کا ہم راز میں

بے کسی میرے گھر سے کہاں جائے گی

جو کوئی بھی تیری راہ میں مر گیا

اپنی ہستی کو وہ جاوداں کر گیا

میں شہیدِ وفا ہو گیا ہوں تو کیا

زندگی میرے گھر سے کہاں جائے گی

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ۔ ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم



ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ۔ ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم ۔ اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

میں حیرت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پر
دریائے محبت کہتا ہے آ کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم

اے درد بتا کچھ تو ہی پتہ ۔ اب تک یہ معمہ حل نہ ہوا
ہم میں ہے دل بے تاب نہاں یا آپ دل بےتاب ہیں ہم

لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں، منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک
اے اہل زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں کمیاب ہیں ہم

مرغان قفس کو پھولوں نے اے شاد یہ کہلا بھیجا ہے
آجاو! جو تم کو آنا ہو ایسے میں ابھی شاداب ہیں ہم

وہ کہانیاں ادھوری جو نہ ہو سکیں گی پوری



انہی خوش گمانیوں میں کہیں جاں سے بھی نہ جاؤ
وہ جو چارہ گر نہیں ہے اسے زخم کیوں دکھاؤ

یہ اداسیوں کے موسم یونہی رائیگاں نہ جائیں
کسی یاد کو پکارو کسی درد کو جگاؤ

وہ کہانیاں ادھوری جو نہ ہو سکیں گی پوری
انہیں میں بھی کیوں سناؤں انہیں تم بھی کیوں سناؤ

یہ جدائیوں کے رستے بڑی دور تک گئے ہیں
جو گیا وہ پھر نہ آیا مری بات مان جاؤ

کسی بے وفا کی خاطر یہ جنوں فراز کب تک
جو تمہیں بھلا چکا ہے اسے تم بھی بھول جاؤ

Tuesday, 28 August 2012

آنکھوں میں لگ گئی ہے جھڑی تیری یاد سے



یہ رات ختم ہو کہ مری ذات ختم ہو
آ جائے نیند، درد کی برسات ختم ہو

کیسے گُزرتے ہیں مرے دن رات بِن ترے
اِظہار کرنے بیٹھوں تو نہ بات ختم ہو

آنکھوں میں لگ گئی ہے جھڑی تیری یاد سے
مِلنے چلے بھی آؤ کہ برسات ختم ہو

اِک روز آفتاب بھی ایسے غروب ہو
جاناں ترے وصال کی نہ رات ختم ہو

ایسا بھی کیا کہ عُمر سے لمبی جُدائی ہو
ایسا بھی کیا کہ پَل میں مُلاقات ختم ہو

ہو چکا ختم عہدِ ہجر و وصال



ہمتِ التجا نہیں باقی
ضبط کا حوصلہ نہیں باقی
اک تری دید چھن گئی مجھ سے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں باقی
اپنے مشقِ ستم سے ہاتھ نہ کھینچ
میں نہیں یا وفا نہیں باقی
ترے چشمِ عالم نواز کی خیر
دل میں کوئی گلہ نہیں باقی
ہو چکا ختم عہدِ ہجر و وصال
زندگی میں مزا نہیں باقی

ملیں پھر آکے اسی موڑ پر دعا کرنا




ملیں پھر آکے اسی موڑ پر دعا کرنا 
کڑا ہے اب کے ہمارا سفر دعا کرنا 
دیارِ خواب کی گلیوں کا جو بھی نقشہ ہو 
مکینِ شہر نہ بدلیں نظر دعا کرنا 
چراغ جاں پہ اس آندھی میں خیریت گزرے 
کوئی امید نہیں ہے مگر دعا کرنا 
تمہارے بعد مرے زخمِ نارسائی کو 
نہ ہو نصیب کوئی چارہ گر دعا کرنا 
مسافتوں میں نہ آزار جی کو لگ جائے 
مزاج داں نہ ملیں ہم سفر دعا کرنا 
دکھوں کی دھوپ میں دامن کشا ملیں سائے 
ہر ے رہیں یہ طب کے شجر دعا کرنا 
نشاطِ قرب میں آئی ہے ایسی نیند مجھے 
کھلے نہ آنکھ میری عمر بھی دعا کرنا 
کڑا ہے اب کے ہمارا سفر دعا کرنا 
دیارِ خواب کی گلیوں کا جو بھی نقشہ ہو 
مکینِ شہر نہ بدلیں نظر دعا کرنا 
چراغ جاں پہ اس آندھی میں خیریت گزرے 
کوئی امید نہیں ہے مگر دعا کرنا 
تمہارے بعد مرے زخمِ نارسائی کو 
نہ ہو نصیب کوئی چارہ گر دعا کرنا 
مسافتوں میں نہ آزار جی کو لگ جائے 
مزاج داں نہ ملیں ہم سفر دعا کرنا 
دکھوں کی دھوپ میں دامن کشا ملیں سائے 
ہر ے رہیں یہ طب کے شجر دعا کرنا 
نشاطِ قرب میں آئی ہے ایسی نیند مجھے 
کھلے نہ آنکھ میری عمر بھر دعا کرنا

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets