Saturday, 14 November 2015

اگر ایک پل کو کہیں مل سکو ۔۔۔ تو



پیار ہے؟“ میں نے پوچھا تھا''

نہ“ تم نے نفی میں سر کو ہلا کر''

کسی ڈوبتے آدمی کی طرح سانس لیتے ہوئے 

بے بسی سے کہا تھا ”نہیں ۔۔۔ عشق ہے ۔۔۔ عشق

کیا عشق کو بھی فنا ہے؟

مجھے بس یہی پوچھنا ہے

اگر ایک پل کو کہیں مل سکو ۔۔۔ تو

شکست


بارہا مجھ سے کہا دل نے کہ اے شعبدہ گر

تو کہ الفاظ سے اصنام گری کرتا ہے

کبھی اس حسنِ دل آرا کی بھی تصویر بنا

جو تری سوچ کے خاکوں میں لہو بھرتا ہے

بارہا دل نے یہ آواز سنی اور چاہا

مان لوں مجھ سے جو وجدان مرا کہتا ہے

لیکن اِس عجز سے ہارا مرے فن کا جادو

چاند کو چاند سے بڑھ کر کوئی کیا کہتا ہے

رختِ سفر میں رکھوں گی بس تیرے جستجو



یہ پُھول یہ پرند یہ گھر چھوڑ جاؤں گی
لیکن میں سب میں اپنا اثر چھوڑ جاؤں گی

رختِ سفر میں رکھوں گی بس تیرے جستجو
باقی ہر ایک چیز اِدھر چھوڑ جاؤں گی

لگتا ہے میں بھی سایۂ دیوار کی طرح
اک روز دن ڈھلے یہ نگر چھوڑ جاؤں گی

بچّوں کی طرح پالا ہے تیرے خیال کو
میں سوچتی ہوں اس کو کدھر چھوڑ جاؤں گی

میں وہ نہیں کہ موت سے مل کر نہ آسکوں
میں اپنے لوٹنے کی خبر چھوڑ جاؤں گی

ترسیں گے پھر یہ لوگ میرے شور کو قمر
چڑیوں کی طرح میں بھی شجر چھوڑ جاؤں گی

تو مثلِ رگِ جاں ہے تو کیوں مجھ سے خفا ہے









حیراں ہوں کہ یہ کونسا دستورِ وفا ہے
تو مثلِ رگِ جاں ہے تو کیوں مجھ سے خفا ہے

تو اہلِ نظر ہے تو نہیں تجھ کو خبر، کیوں؟
پہلو میں تیرے کوئی زمانے سے کھڑا ہے

لکھا ہے میرا نام، پانی پہ ہوا پہ
دونوں کی فطرت میں، سکوں ہے نہ وفا ہے

شکوہ نہیں مجھ کو، کہ ہوں محرومِ تمنّا
غم ہے تو فقط اتنا کہ تو دیکھ رہا ہے

ہم رکھتے ہیں دعویٰ کہ ہے قابو ہمیں دل پر
تو سامنے آ جائے تو یہ بات جدا ہے

خود کو سبز ہی رکھا آنسوؤں کی بارش میں



خواب ساتھ رہنے کے نت نئے دکھاتا ہے
یہ جو اصل موسم ہے یہ گزرتا جاتا ہے

خود کو سبز ہی رکھا آنسوؤں کی بارش میں
ورنہ ہجر کا موسم کس کو راس آتا ہے

تو ہواؤں کا موسم تجھ کو کیا خبر جاناں
گردِ بد گمانی سےدل بھی ٹوٹ جاتا ہے

ایک تم ہی تھے ورنہ آدمی محبت میں
لاکھ آئیں دیواریں راستے بناتا ہے

ہم تو خیر ناداں تھے،منتظر رہے ورنہ
کون اپنی بینائی اس طرح گنواتا ہے

کتنےخواب آنکھوں میں زخم بننےلگتےہیں
جب ہوا کے ہونٹوں پر تیرا نام آتا ہے

سینکڑوں دکانیں ہیں وصل کے چراغوں کی
کون ہجر میں اپنا اب لہو جلاتا ہے

ترےجنگل کی صندل ہوگئی ہوں



ترےجنگل کی صندل ہوگئی ہوں 
سلگنے سے مکمل ہوگئی ہوں

ذرا پیاسے لبوں کی اے اداسی
مجھے تو دیکھ چھاگل ہوگئی ہوں

بدن نے اوڑھ لی ہےشال اس کی
ملائم، نرم، مخمل ہوگئی ہوں

دھنسی جاتی ہے مجھ میں زندگانی
میں اک چشمہ تھی دلدل ہوگئی ہوں

کسی کے عکس میں کھوئی ہوں اتنی
خود آئینے سے اوجھل ہوگئی ہوں

رکھا ہے چاند اونچائی پہ اتنا
تمنائوں سے پاگل ہوگئی ہوں

کرشمہ اک تعلق کا ہے نیناں
کہ میں صحرا سے جل تھل ہوگئی ہوں

یوں اکیلے میں اسے عہدِوفا یاد آئے



یوں اکیلے میں اسے عہدِوفا یاد آئے
جیسے بندے کو مصیبت میں خدا یاد آئے

جیسے بھٹکے ہوئے پنچھی کو نشیمن اپنا
جیسے اپنوں کے بچھڑنے پہ دعا یادآئے

جیسے ڈھلتی ہوئی شاموں کو سویرا کوئی
جیسے پنجرے میں پرندے کو فضا یاد آئے

جیسے بوڑھے کو خیالات میں بچپن اپنا
جیسے بچے کو شرارت پہ سزا یاد آئے

جیسے اُجڑی ہوئی بستی کو زمانہ اپنا
جیسے طوفان کے ٹھہرنے پہ دیا یاد آئے

متاع کوثر و زمزم کے پیمانے تری آنکھیں



متاع کوثر و زمزم کے پیمانے تری آنکھیں
فرشتوں کو بنا دیتی ہیں دیوانے تری آنکھیں

جہان رنگ و بو الجھا ہوا ہے ان کے ڈوروں میں 
لگی ہیں کاکل تقدیر سلجھانے تری آنکھیں

اشاروں سے دلوں کو چھیڑ کر اقرار کرتی ہیں
اٹھاتی ہیں بہارِ نو کے نذرانے تری آنکھیں

وہ دیوانے زمام لالہ و گل تھام لیتے ہیں
جنہیں منسوب کر دیتی ہیں ویرانے تری آنکھیں

شگوفوں کو شراروں کا مچلتا روپ دیتی ہیں
حقیقت کو بنا دیتی ہیں افسانے تری آنکھیں

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets