Friday, 26 April 2013

میں لمحہ ہوں میں جذبہ ہوں


تو میرا نام نہ پوچھا کر
میں تیری ذات کا حصہ ہوں

میں تیری سوچ میں شامل ہوں
میں تیری نیند کا قصہ ہوں

میں تیرے خواب کا حاصل ہوں
میں تیری یاد کا محور ہوں

میں تیری سانس کا جھونکا ہوں
تو منظر، میں پس منظر ہوں

میں لمحہ ہوں میں جذبہ ہوں
جزبے کا کوئی نام نہیں

تو میرا نام نہ پوچھا کر


Tanha Kahin Milo Tou Bayaan Aarzu Karein


Tanha Kahin Milo Tou Bayaan Aarzu Karein
Hum Itni Bheerr Bhaarr Mein Kya Guftugu Karein

Tujh Tak Rasaai K Liye Ek Umer Chahiye
Sub Kuch Khayal-O-Khwab Hay Kya Justaju Karein

Hum Aisay Pak Baaz Kahan Hain K Roz-e-Hashr
Daaman Nichorr Dain Tou Farishtay Wuzoo Karein

Qaasid Ko Darmiyan Se Hataya Hai Es Liye
Jo Baat Hum Karein Woh Tere Ru-Baru Karein...

Saturday, 20 April 2013

کہ میرا صبر، تِرے جبر سے زیادہ ہے



اب اس کے بعد تِرا اور کیا ارادہ ہے


کہ میرا صبر، تِرے جبر سے زیادہ ہے



تُو بُوئے گل کی طرح اُڑ رہا ہے اور کوئی


تِری تلاش میں برسوں سے پا پیادہ ہے



میں جنگ جیت کے تم کو معاف کر دوں گا


تمہاری سوچ سے بڑھ کر یہ دل کُشادہ ہے



غریبِ شہر سمجھتی ہے جس کو یہ دُنیا


وہ شخص خواب جزیروں کا شاہزادہ ہے



میں سرگِراں تھا، مگر اتنا مُضطرب تو نہ تھا


رگوں میں آگ رواں ہے کہ موجِ بادہ ہے



جُدا نہیں مِری رنگت زمین سے عامر


یہ اڑتی دُھول مِرے جسم کا لبادہ ہے


Friday, 19 April 2013

Saans Lena Bhi Mujhay Azaab Hua Hai



Kahun Kis Sey Keh Teri Judai Men Ab,

Saans Lena Bhi Mujhay Azaab Hua Hai...

Thursday, 18 April 2013

خواہش



من بند کلی کی مانند

آنکھیں اداسی میں قید

بس اِک لمحہ تیرے ملن کا

اُس لمحے کی

تیرے ملن کی خواہش

ابھی یہ ہونا تھا باقی

اور ہو گئی بارش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھیگ گئی خواہش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جیئے ہم تو دکھا دیں گے کہ دیکھ اس طرح مرتے ہیں


لیا میں نے تو بوسہ خنجرِ قاتل کا مقتل میں
اجل شرما گئی سمجھی کہ مجھ کو پیار کرتے ہیں

مرا خط پھینک کر قاصد کے مُنہ پر طنز سے بولے
خلاصہ سارے اس طومار کا یہ ہے کہ مرتے ہیں

ابھی اے جاں تونے مرنے والوں کو نہیں دیکھا
جیئے ہم تو دکھا دیں گے کہ دیکھ اس طرح مرتے ہیں

جو رکھ دیتی ہے شانہ آئینہ تنگ آکے مشاطہ
ادائیں بول اُٹھتی ہیں کہ دیکھو یوں سنورتے ہیں

بڑے ہی قدرداں کانٹے ہیں صحرائے مُحبت کے
کہیں گاہک گریباں کے، کہیں دامن کے بیٹھے ہیں

وہ آمادہ سنورنے پر، ہم آمادہ ہیں مرنے پر
اُدھر وہ بن کے بیٹھے ہیں، اِدھر ہم تن کے بیٹھے ہیں

امیر ، اچھی غزل ہے داغ کی، جسکا یہ مصرع ہے،
بھنویں تنتی ہیں، خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں


محبت کے پہلے سنہرے سفر میں


محبت کے پہلے
سنہرے سفر میں
مری
!یہ دُعا ہے
کہ تم کو
خوشی کے
ہزاروں جزیرے ملیں
اور مجھ کو
’’تمہاری محبت‘‘

Wednesday, 17 April 2013

در پر آنکھیں ‘ آنکھ میں پانی



جتنے منظر دیکھے ہم نے
دل کے اندر دیکھے ہم نے
اُڑتی خاک زمیں پر دیکھی
رنگ فلک پر دیکھے ہم نے
تم نے صرف کنارے دیکھے
سات سمندر دیکھے ہم نے
اب تک جتنے چہرے دیکھے
تم سے کمتر دیکھے ہم نے
در پر آنکھیں ‘ آنکھ میں پانی
پانی میں گھر دیکھے ہم نے
دل کے سُونے دشت کے اندر
اُجڑے منظر دیکھے ہم نے
تم نے دیکھے خواب خوشی کے
غم کے نشتر دیکھے ہم نے
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets