Saturday, 27 September 2014

ایک پُرہیبت سکوتِ مستقل آنکھوں میں تھا



جِسم تپتے پتھروں پر، رُوح صحراؤں میں تھی
پھر بھی تیری یاد ایسی تھی کہ جو چھاؤں میں تھی

ایک پُرہیبت سکوتِ مستقل آنکھوں میں تھا
ایک طغیانی مسلسل، دل کے دریاؤں میں تھی

ہم ہی ہو گزرے ہیں خود اپنے شہر اجنبی
وہ جہاں بھی تھی وہاں اپنے شناساؤں میں تھی

اِک صدا سی برف بن کر گِر رہی تھی جسم پر
ایک زنجیرِ ہوا تھی، جو میرے پاؤں میں تھی

Friday, 26 September 2014

جب تک میں تیرے دل کی محبت سرا میں ہوں













دُنیا سے بے نیاز ہوں اپنی ہوا میں ہوں


جب تک میں تیرے دل کی محبت

سرا میں ہوں 


اِک تخت اور میرے برابر وہ شاہ زاد


لگتا ہے آج رات میں شہرِ سبا میں ہوں


خُوشبو کو رقص کرتے ہوۓ دیکھنے

لگی

سحِر بہار میں کہ طِلسمِ صبا میں

ہوں 


اس دل کو جب سےغم کی ضمانت

میں دے دیا


اُس وقت سے کسی کے حصارِ دُعا میں ہوں


Kamray Men Hai Bikhra Hua Saaman Waghera



Kamray Men Hai Bikhra Hua Saaman Waghera
Khatt, Khawab, Kitaaben, Gul-o-Guldaan Waghera

In Men Sey Koi Hijar Men Imdaad Ko Aaye
Jinn, Dev, Pari, Khizar, Ya Luqman Waghera

Tu Aaye To Gathrri Men Tujhey Baandh K Dey Duun
Dil, Jaan, Nazar, Soch, Yeh Emaan Waghera

Bas Ishq Kay Muqaddar Sey Zara Khaufzada Huun
Jhela Hai Bohat Wesey To Nuqsaan Waghera...

Friday, 12 September 2014

اَن سُنے لفظ



کسی ریگزار کی دھوپ میں وہ جو قافلے تھے بہار کے 
وہ جو اَن کھلے سے گلاب تھے 
وہ جو خواب تھے میری آنکھ میں 
جو سحاب تھے تیری آنکھ میں 
وہ بکھر گئے، کہیں راستوں میں غبار کے ! 
وہ جو لفظ تھے دمِ واپسیں 
میرے ہونٹ پر 
تیرے ہونٹ پر 
انہیں کوئی بھی نہیں سُن سکا 
وہ جو رنگ تھے سرِ شاخِ جاں 
تیرے نام کے 
میرے نام کے 
انہیں کوئی بھی نہیں چُن سکا۔ 

درد کے مرحلے تمام ہوئے



دوست بن کر جو کل ملا تھا مجھے

کتنا بے چین کر گیا ہے مجھے

وہ تھا خوشیوں کا ایک سوداگر

جو مجھے کل ملا تھا رستے میں

میری آنکھوں میں آنسوؤں کے نشاں

صاف کر کے بڑی محبّت سے

میرے ہاتوں میں پھول پکڑآ کے

جھک کے اُس نے کہا تھا ہولے سے

اب سُنو، میری پوری بات سُنو

صبح ہوتی ہے اُس طرف دیکھو

درد کا سب سفر تمام ہوا

دوست! آج کے بعد تم نہ روؤ گی

میں نے سچ مان لی تھی بات اُس کی

آنسوؤں کی جھڑی میں ہنس دی تھی

آج پھر دُکھ بھرا اکیلا دن

کرب کی رات درد کے سپنے

زینہ زینہ اُترتے آتے ہیں

شام ڈھلتی ہے پھر اُفق کے پار

آنسوؤں کے چراغ جلتے ہیں

کون جانے وہ منچلا ہنس مُکھ

کون سے شہر کس گلی میں ہو

پھر کوئی میرے جیسی لڑکی ہو

جو اُسے دوست ہی سمجھتی ہو

جس کو وہ پھر نوید دیتا ہو

لو سُنو، میری پوری بات سُنو

دوست درد کے مرحلے تمام ہوئے

آج کے بعد تم نہ روؤگی

اُس کو عادت ہے دُکھ بٹانے کی

پھول دینے کی، دوست کہنے کی

اور پھر قول بھول جانے کی

تمہاری بے رخی پر بھی تمہاری آرزو کرنا



مجھے اچھا سا لگتا ہے
تمہارے سنگ سنگ چلنا
وفا کی آگ میں جلنا
تمہیں ناراض کر دینا
کبھی خود بھی روٹھ جانا

تمہاری بے رخی پر بھی 
تمہاری آرزو کرنا
خود اپنے دل کی دھڑکن سے
تمہاری گفتگو کرنا

مجھے اچھا سا لگتا ہے

بہت اچھا سا لگتا ہے
تمہی کو دیکھتے رہنا
تمہی کو سوچتے رہنا

بہت گہرے خیالوں میں
جوابوں میں، سوالوں میں
محبت کے حوالوں میں
تمہارا نام آ جانا
مجھے اچھا سا لگتا ہے

اتنی سی اِک دُعا ہے



اتنی سی اِک دُعا ہے
حسیں چاہتوں کے پھول بخشے، عروج بخشے
تمھاری دُنیا میں روشنی ہو
تمھاری محفل میں خوشیاں ہوں
تمھارے ہونٹوں پہ مُسکراہٹ
کبھی بھی تم تک دکھوں کی دستک نہ پہنچ پائے
تمھاری آنکھوں میں جو ستارے چمک رہے ہیں یونہی چمکتے رہیں ہمیشہ
تمھاری دل تک جُدائیوں، بےوفائیوں کی کوئی اندھیری کِرن نہ 
پہنچے
خُدا کرے کہ ہر اک دل کاقرار لُوٹو
مگر تمھاری پر اک تمنا پر اک خواہش
تمھاری ہونٹوں تک آتے آتے
تمھارے قدموں تک آن پہنچے
جو ہوسکے تو تمھارے حصے کے سب غموں کو میں اپنے اندر اُتار 
لوں
یہ ممکن تو نہیں، لیکن دُعا تو میرا حق ہے
یہ مختصر سی دُعا کا تحفہ سنبھال رکھنا
میری اندھیروں کی فکر چھوڑو
تم بس اپنا خیال رکھنا ۔۔۔

اُسے کہنا



اُسے کہنا کہ اب وہ بارشوں کے موسم میں
دِل کے بند دریچوں کو وا نہیں کرتی

اُسے کہنا کہ اب وہ تتلیاں پکڑنے کو
کسی سر سبز جزیرے پر جایا نہیں کرتی

اُسے کہنا کہ اب وہ زندگی کے موضوع پہ
کوئی ترنم ریز نغمہ چھیڑا نہیں کرتی

اُسے کہنا کہ اب وہ موجوں کے تلاطم سے
عہدِ ماضی کی طرح گھبرایا نہیں کرتی

اُسے کہنا کہ اب وہ نرم خوابوں کی سر زمین پہ
گلاب کے سپنے سنجویا نہیں کرتی

اُسے کہنا اب وہ اپنے آنگن کے موتیا کو
کسی گجرے کے گہنے میں پرویا نہیں کرتی

اُسے کہنا کہ اب وہ سرد اور تاریک راتوں میں
جاگتی تو رھتی ھے ، رویا نہیں کرتی

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets