Thursday, 27 June 2013

وہ جو ہم تم میں تھا، اِک ’’ہم‘‘ مجھے واپس کر دو


روشنی اور بہاریں تمہی رکھ لو جاناں
میرے جگنو مِرے موسم مجھے واپس کر دو

میری حسرت مِری محرومیاں لوٹا دو مجھے
میرے آنسو مِرے ماتم مجھے واپس کر دو

جانے والے سے بس اتنا ہی کہا تھا میں نے
کچھ نہ لوٹائو میرے غم مجھے واپس کر دو

کیوں یہ تکرار سی ہونے لگی ’’میں‘‘ کی جاناں
وہ جو ہم تم میں تھا، اِک ’’ہم‘‘ مجھے واپس کر دو

جتنی خوشیاں ہیں وہ رکھ لو مری جانب سے وصی
میری آنکھوں میں چُھپے نم مجھے واپس کر دو

Post a Comment
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets