Thursday, 4 October 2012

جیسے کوئی وصل کی رات کا قصہ تھا



لفظ بھی کوئی اس کا ساتھ نہ دیتا تھا
جیسے کوئی وصل کی رات کا قصہ تھا

بستی کے اس پار کہیں پر رات ڈھلے
لمبی چیخ کے بعد کوئی سناٹا تھا

جس کو اپنا گھر سمجھے تھے وہ تو محض
دیواریں تھیں اور ان میں دروازہ تھا

ہم نے اسے بھی لفظوں میں زنجیر کیا
بادل جیسا جو آوارہ پھرتا تھا

منزل کو سر کرنے والے لوگوں نے
رستوں کا بھی ہر اندیشہ دیکھا تھا

کیسے دن ہیں اس کا چہرہ دیکھ کے ہم
سوچ رہے ہیں پہلے کہاں پہ دیکھا تھا

No comments:

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets