Thursday, 4 October 2012

متفرق اشعار



وہ تیرگی تھی لفظوں کو راستہ نہ ملا
کوئی چراغ قبیلہ مرے ہُنر کے لیے


دل پر ہوتے جبر ابھی دیکھے ہی نہیں ہیں
تم نے اہلِ صبر ابھی دیکھے ہی نہیں ہیں


سوچ رہے ہیں صبح تلک اِک بار بھی آنکھ نہیں جھپکی
اب تو تیرے ہجر میں ہم نے پہلی رات گزاری ہے


قریب تھا تو کسے فُرصت محبّت تھی
ہُوا ہے دُور تو اُس کی وفائیں یاد آئیں


آج دیکھو زمیں کے سینے پر
اُس کے چہرے کی دھوپ پھیلی ہے


خیال و خواب کے منظر سجانا چاہتا ہے
یہ دل کا اِک تازہ بہانہ چاہتا ہے


روشنیوں کے سارے منظر جھُوٹے لگتے ہیں
لیکن اُس کی آنکھ کے آنسو سچے لگتے ہیں


محّبت میں کہیں کم ہو گیا ہے
مِرا تجھ پر یقیں کم ہو گیا ہے


اِک چادر سخن ہی بچا کر نکل چلیں
رستہ مِلے تو شہر سے باہر نکل چلیں


مرقدِ عشق پہ اَب اور نہ رویا جائے
رات کا پچھلا پہر ہے چلو سویا جائے


ہجر کی شب میں قید کرے یا صُبحِ وصال میں رکھے
اچھّا مولا!تیری مرضی تُو جس حَال میں رکھے


خرچ اِتنا بھی نہ کر مُجھ کو زمانے کیلئے
کُچھ تو رہ جاؤں میں کام اپنے بھی آنے کیلئے



No comments:

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets