Monday, 29 April 2013

ہم تری محبت کے جُگنوؤں کی آمد پر


اشک اپنی آنکھوں سے خُود بھی ہم چھُپائیں گے
تیرے چاہنے والے شور کیا مچائیں گے

صُبح کی ہَوا تجھ کو وہ ملے تو کہہ دینا
شام کی منڈیروں پر ہم دیئے جلائیں گے

ہم نے کب ستاروں سے روشنی کی خواہش کی
ہم تمہاری آنکھوں سے شب کو جگمگائیں گے

تُجھ کو کیا خبر جاناں ہم اُداس لوگوں پر
شام کے سبھی منظر اُنگلیاں اٹھائیں گے

ہم تری محبت کے جُگنوؤں کی آمد پر
تِتلیوں کے رنگوں سے راستے سجائیں گے


رات یوں رُخسار پہ تیری یاد کے آنسو مہکے



رات  یوں  رُخسار  پہ  تیری  یاد  کے  آنسو مہکے

اندھیری  رات  میں  جیسے تنہا  کوئی جگنو مہکے


پاکیزہ  چاندنی  سے کیسے مُعطر  ہورہی ہے فضا

تیرے  پہلو کی خوشبو سے جیسے میرا پہلو مہکے


تیز  ہوا   یوں   پتوں  سے  ٹکرا  کے  گزرتی  ہے

اک لمبی خامشی کے بعد جیسے تیری گفتگو مہکے


میں  اور  اک  غزل  لکھ  رہا  ہوں  تیرے  نام سے

تیرے  خیال  سے  میرے  وجدان  کی  آرزو مہکے


اک  بار  یوں  رکھ  دے میرے سینے  پہ  اپنا  ہاتھ

چاک گریباں رہے  نہ رہے تمام عمر یہ رفُو مہکے


Sunday, 28 April 2013

مین چلی جاؤں گی یادوں کو مقفل کرکے

اب کے محبتوں میں یہ کیا معجزے ہوئے



اب کے محبتوں میں یہ کیا معجزے ہوئے
ہم خود کو سوچتے ہیں تجھے سوچتے ہوئے 

اک بار تجھ کو سوچا سر شام اور پھر 
اک اور رات بیت گئی جاگتے ہوئے

ہم منزل عدم کے اندھیروں میں کھو گئے 
جب سے الگ تمہارے مرے راستے ہوئے 

جب آگہی کی نبض تھمی تو پتہ چلا 
کتنے برس گزر گئے تجھ سے ملے ہوئے

میں نے کہا کہ دنیا میں کوئی نہیں مرا 
اس نے کہا کہ آج سے ہم آپ کے ہوئے

میری محبت



میری محبت کوئلوں جیسی ہے

کہ جلتی بجھتی رہتی ہے

کبھی یہ گماں بھی ہوتا ہے

کہ کوئلہ بجھ چکا ہوگا

مگر پھر اچانک سے

ذرا سے ہوا کے جھونکے سے

سرخی دمکنے لگتی ہے

آگ بھڑکنے لگتی

پھر وہی حرارت ہوگی

ہھر وہی شرارت ہوگی

میری محبت اس ننھے بلب جیسی ہے

جو گھر کے باہر لان میں

مدتوں جلتا رہتا ہے

دن کو سورج کی روشنی میں

اوروں کی موجودگی میں

اسکی ہستی گم گم رہتی ہے

مگر جیسے ہی شام ڈھلتی ہے

آنگن میں اندھیرا ہوتا ہے

وہی ننھا منا بلب ہماری

راتیں روشن کرتا ہے۔۔۔

ترکِ مراسم


صبحیں بھی وہی، ہے شام بھی وہی

کاروبارِ ہستی بھی، زیست کا ہنگام بھی وہی


غمِ ہستی بھی وہی، دردِ انجام بھی وہی


ہم بھی وہی، تلخیء ایام بھی وہی


ہاں مگر تم سے بچھڑ کر اب ہر پل


دل بوجھل بوجھل رہتا ہے


اور سچ بھی ہے کہ جیتے جیتے


مرنا کس کو اچھا لگتا ہے


پر سچ سنتی ہو تو دیکھو


مجھ سے بچھڑ کر تم خوش ہو


اور دل کی کہوں تو جاناں


اپنی خواہش سے بھی زیادہ


ہنستا کھلتا چہرہ تمھارا


مجھ کو اچھا لگتا ہے


فرض کرو ہم کبھی نہ ملے ہوتے



فرض کرو ہم کبھی نہ ملے ہوتے

دریدہ دل کے دامن میں اب جو ہیں

کبھی وہ پھول نہ کھلے ہوتے

کار ہائے دنیا سے جو ملے ہم کو

وہ چاک تمھاری رفاقتوں سے نہ سلے ہوتے

!فرض کرو ہم کبھی نہ ملے ہوتے

تو آج اس حسیں موڑ پر اجنبی جیسے

مل بیٹھتے اور اک نیا آغاز کرتے

تم اپنی مسکراہٹ سے چھیڑتی راگنی

ہم دل کو مدعا، دھڑکنوں کو آواز کرتے

فرض کرو ہم کبھی نہ ملے ہوتے

تم اپنی دنیا میں گم سم 

الگ سے خواب بنا کرتی

ہم اپنے خیالوں میں گنگناتے

کوئی دور ہمیں سنا کرتی

!فرض کرو ہم کبھی نہ ملے ہوتے

دریدہ دل کے دامن میں اب جو ہیں

کبھی وہ پھول نہ کھلے ہوتے

تو اب جو ملال گزرے دنوں کا ہے

وہ کسی اور شخص سے منسوب ہوتا

ہم تم اجنبی ہی رہتے جو عمر بھر

تو سوچو کتنا خوب ہوتا

نہ چاہتیں ہوتیں، نہ رنجشیں بنتیں

آرذویں جو دل میں دبی رہتیں

ایسے نہ آنکھوں کی بارشیں بنتیں

نہ تمھیں کچھ ہماری خبرہوتی

نہ ہمیں کوئی تمھاری فکر ہوتی

نہ جھگڑے وفا جفا کے ہوتے

نہ ہی کوئی ہجر و وصال کے سلسلے ہوتے

!فرض کرو ہم کبھی نہ ملے ہوتے

Friday, 26 April 2013

وہ جل تھل ہوا کہ الاماں



سردیوں کی طویل راتوں میں

بے ربط گفتگو تا وقتِ سحر

خامشی کے سلسلوں میں کہیں

تمھاری سرگوشیوں کی لہر

بے نام آنسوؤں کے سیلِ رواں میں

سسکیوں کا موہوم سا وقفہ

مجھے اب تلک یاد ہے وہ،

 آغازِ محبت کا پہلا مرحلہ

نہ جھگڑا خرد و جنوں کا

وفا جفا کے وعدے نہ قسمیں کوئی

سیدھی سی تھی سانسوں کی ڈور

اک دوسرے سے لپٹی ہوئی

لمحوں کی جو بات تھی وہ

سالوں میں ڈھلتی رہی بڑھتی رہی

باتوں سے جو بات نکلی تھی وہ

 سانسوں کی صورت چلتی رہی

نجانے کہاں سے آیا اچانک

پھر موسم تغافل کا، رنجشوں کا

کوئی اجنبی سا بادل جو لے کر آیا

نہ ٹوٹا پھر زور بارشوں کا

وہ جل تھل ہوا کہ الاماں

سالوں کی محنت سے جو تھا بنا

اک آن میں اجڑا

اپنے خوابوں کا آشیاں

اب، تنہائی کی طویل راتوں میں

رت جگے ہیں الجھنیں ہیں تا وقتِ سحر

خامشی کے سلسلوں میں گونجتی ہے

تمھاری سرگوشیوں کی موہوم لہر


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets