Saturday, 3 August 2013

نکال اب تیر سینے سے کہ جانِ پُر الم نکلے


نکال اب تیر سینے سے کہ جانِ پُر الم نکلے
جو یہ نکلے تو دل نکلے، جو دل نکلے تو دم نکلے

تمنا وصل کی اک رات میں کیا اے صنم نکلے
قیامت تک یہ نکلے گر نہائت کم سے کم نکلے

نہ اُٹھےمر کے بھی ایسے تیرے کوچے میں ہم بیٹھے
محبت میں اگر نکلے، تو ہم ثابت قدم نکلے

سمجھ کر رحم دل تم کو دیا تھا ہم نے دل اپنا
مگر تم تو بلا نکلے، غضب نکلے، سِتم نکلے

دمِ پُرسش دیکھا جو، اُس بتِ سفاک کو مضطر
صفِ محشر سےدل پکڑے ہوئے گھبرا کے ہم نکلے

گئے ہیں رنج و غم اے داغ بعدِ مرگ ساتھ اپنے
اگر نکلے تو یہ اپنے رفیقانِ عدم نکلے

کو ئی بھی وقت ہو غم اسکا مجھ کو ڈھونڈ لیتا ہے


کبھی کہنا کبھی کہہ کر نہ آنا یاد رہتا ہے
مجھے اس شخص کا ہر اک بہانہ یاد رہتا ہے

کو ئی بھی وقت ہو غم اسکا مجھ کو ڈھونڈ لیتا ہے
یہ ایسا تیر ہے جس کو نشانہ یاد رہتا ہے

نکلتے ہو تو رستے میں مرا گھر بھول جاتے ہو
تمھیں ویسے تو یہ سارا زمانہ یاد رہتا ہے

سحر ہو گی تو ہم بھی گھر کو واپس لوٹ جائیں گے
ہم ایسے شب گزیدوں کو ٹھکانہ یاد رہتا ہے

خشک ہونٹوں پر لرزتی اِک دُعا رہ جائے گی


بستیوں میں اِک صدائے بے صدا رہ جائے گی
بام و دَر پہ نقش تحریرِ ہوا رہ جائے گی

آنسوؤں کا رِزق ہوں گی بے نتیجہ چاہتیں
خشک ہونٹوں پر لرزتی اِک دُعا رہ جائے گی

رُو برو منظر نہ ہوں تو آئینے کس کام کے
ہم نہیں ہوں گے تو دُنیا گردِ پا رہ جائے گی

خواب کے نشّے میں جھکتی جائے گی چشمِ قمر
رات کی آنکھوں میں پھیلی اِلتجا رہ جائے گی

بے ثمر پیڑوں کو چومیں گے صبا کے سبز لب
دیکھ لینا، یہ خزاں بے دست و پا رہ جائے گی

ﺗﺮﺍ ﮐﯿﺎ ﺑﻨﮯ ﮔﺎ ﺍﮮ ﺩﻝ


ﮐﺴﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﻓﺮﻭﺯﺍﮞ ﮐﺴﯽ ﯾﺎﺩ
ﻣﯿﮟ
ﺳﻤﭧ ﮐﺮ
ﮐﺴﯽ ﺣﺴﻦ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﺸﺎﮞ ﮐﺴﯽ
ﻧﺎﻡ
ﺳﮯ ﻟﭙﭧ ﮐﺮ
ﻭﮦ ﺟﻮ ﻣﻨﺰﻟﯿﮟ ﻭﻓﺎ ﮐﯽ ﻣﺮﮮ
ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯿﮟ
ﻭﮦ ﺟﻮ ﻟﺬﺗﯿﮟ ﻃﻠﺐ ﮐﯽ ﻣﺮﮮ ﺷﻮﻕ
ﻧﮯ
ﺍُﭨﮭﺎﺋﯿﮟ
ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﺒﮭﯽ
ﺩﮬﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﻻﺅﮞ
ﺗﻮ ﮨﺠﻮﻡِ ﺭﻧﮓ ﻭ ﺑﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ
ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﮧ
ﭘﺎﺅﮞ
ﮐﮩﯿﮟ ﺧﻮﺷﺒﻮﺅﮞ ﮐﯽ ﺟﮭﻠﻤﻞ
ﮐﮩﯿﮟ
ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﯾﻠﮯ
ﮐﮩﯿﮟ ﺗﺘﻠﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻤﮕﮭﭧ ﮐﮩﯿﮟ
ﺟﮕﻨﻮﺅﮞ ﮐﮯ ﻣﯿﻠﮯ
ﯾﮧ ﺩﻟﻔﺮﯾﺐ ﻣﻨﻈﺮ ﮐﮩﯿﮟ ﭨﮭﮩﺮﺗﺎ
ﻧﮩﯿﮟ
ﮨﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﻋﮑﺲ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺳﺮِ
ﺁﺋﯿﻨﮧ
ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﯾﮩﯽ ﭼﻨﺪ ﺛﺎﻧﯿﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﺮﯼ ﮨﺮﺧﻮﺷﯽ
ﮐﺎ
ﺣﺎﺻﻞ
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺳﻤﯿﭩﻮﮞ ﮐﮧ ﺳﻤﮯ
ﮐﺎ
ﺗﯿﺰ ﺩﮬﺎﺭﺍ
ﺳﺮِ ﻣﻮﺝِ ﺯﻧﺪﮔﺎﻧﯽ ﮨﮯ ﻓﻨﺎ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﺎﺭﺍ
ﻧﮧ ﮐﮭﻠﮯ ﮔﺮﮦ ﺑﮭﻨﻮﺭ ﮐﯽ ﻧﮧ ﻣﻠﮯ
ﻧﺸﺎﻥِ
ﺳﺎﺣﻞ
ﺗﺮﺍ ﮐﯿﺎ ﺑﻨﮯ ﮔﺎ ﺍﮮ ﺩﻝ

وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں


وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں
وہ فاصلے بھی گئے ، اب وہ قربتیں بھی گئیں

دلوں کا حال تو یہ ہے کہ ربط ہے نہ گریز
محبتیں تو گئی تھیں ، عداوتیں بھی گئیں

لُبھا لیا ہے بہت دل کو رسمِ دنیا نے
ستم گروں سے ستم کی شکایتیں بھی گئیں

غرورِ کج کلہی جن کے دم سے قائم تھا
وہ جراتیں بھی گئیں ، وہ جسارتیں بھی گئیں

نہ اب وہ شدتِ آوارگی نہ وحشتِ دل
ہمارے نام کی کچھ اور شہرتیں بھی گئیں

دل تباہ تھا بے نام حسرتوں کا دیار
سو اب تو دل سے وہ بے نام حسرتیں بھی گئیں

ہوئے ہیں جب سے برہنہ ضرورتوں کے بدن
خیال و خواب کی پنہاں نزاکتیں بھی گئیں

ہجوم سرو و سمن ہے نہ سیل نکہت و رنگ
وہ قامتیں بھی گئیں ، وہ قیامتیں بھی گئیں

بھلا دیے غمِ دنیا نے عشق کے آداب
کسی کے ناز اٹھانے کی فرصتیں بھی گئیں

کرے گا کون متاع خلوص یوں ارزاں
ہمارے ساتھ ہماری سخاوتیں بھی گئیں

نہ چاند میں ہے وہ چہرہ ، نہ سرو میں ہے وہ جسم
گیا وہ شخص تو اس کی شباہتیں بھی گئیں

گیا وہ دور غم انتظار یار سحر
اور اپنی ذات پہ دانستہ زحمتیں بھی گئیں

Friday, 2 August 2013

شبِ غم نہ پُوچھ کیسے تِرے مُبتلا پہ گُزری


کبھی اُن کا نام لینا کبھی اُن کی بات کرنا
میرا ذوق اُن کی چاہت میرا شوق اُن پہ مرنا

وہ کسی کی جھیل آنکھیں وہ میری جُنوں مِزاجی
کبھی ڈُوبنا اُبھر کر کبھی ڈُوب کر اُبھرنا

تِرے منچلوں کا جگ میں یہ عجب چلن رہا ہے
نہ کِسی کی بات سُننا نہ کِسی سے بات کرنا

شبِ غم نہ پُوچھ کیسے تِرے مُبتلا پہ گُزری
کبھی آہ بھر کے گِرنا کبھی گِر کے آہ بھرنا

وہ تِری گلی کے تیور وہ نظر نظر پہ پہرے
وہ مِرا کِسی بہانے تُجھے دیکھتے گُزرنا

کہاں میرے دِل کی حسرت کہاں میری نارسائی
کہاں تیرے گیسوؤں کا تِرے دوش پر بِکھرنا

چلے لاکھ چال دُنیا ہو زمانہ لاکھ دُشمن
جو تِری پناہ میں ہو اُسے کیا کِسی سے ڈرنا

وہ کریں گے ناخُدائی تو لگے گی پار کشتی
ہے نصیر ورنہ مُشکل تِرا پار یوں اُترنا

شدت غم کا یہ عالم ہے شب ہجر


زندگی، لوگ جسے مرہم غم جانتے ہیں
جس طرح ہم نے گزاری ہے وە ہم جانتے ہیں 

درد کچھ اور عطا کر کہ ترےدرد نواز
یہ سخاوت ترے معیار سے کم جانتے ہیں

سر برہنہ چلے آۓ ہیں کہ پتھر برسیں
ہم ترے شہر کا آئین کرم جانتے ہیں

شدت غم کا یہ عالم ہے شب ہجر، کہ ہم
ہر ستارے کو ترا دیدەٴ نم جانتے ہیں

ہم کہ کھلتے تھے کبھی ضبط جنوں کی رت میں
حرف شیریں کو بھی اب قطرە سم جانتے ہیں

"رسم فرہاد" پہ کہنا ہو غزل تو محسن۔۔۔
"سنگ و تیشہ" کو بھی ہم لوح و قلم جانتے ہیں

بُجھ گیا ہے وُہ ستارہ جو مِری رُوح میں تھا


بُجھ گیا ہے وُہ ستارہ جو مِری رُوح میں تھا 
کھو گئی ہے وُہ حرارت جو تِری یاد میں تھی 

وُہ نہیں عِشرت ِ آسودگیء منزِل میں 
جو کسک جادہء گُم گشتہ کی اُفتاد میں تھی 

دُور اِک شمع لرزتی ہے پس ِ پردہء شب 
اِک زمانہ تھا کہ یہ لَو مِری فریاد میں تھی 

ایک لاوے کی دھمک آتی تھی کُہساروں سے 
اِک قیامت کی تپش تیشہء فرہاد میں تھی 

ناسِخ ساعت ِ اِمروز کہاں سے لائے 
وُہ کہانی جو نظر بندیء اجداد میں تھی 

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets