Monday, 31 August 2015

آخر کیا مشکل میری پہچان میں ہے



مجھ کو دیکھنے والے تو کس دھیان میں ہے 
آخر کیا مشکل میری پہچان میں ہے 

اپنےہجر کے پسِ منظر میں جھانک مجھے 
میری سب روداد اِسی عنوان میں ہے 

کب سننے دیتی ہے شور سمندر کا 
پانی کی اِک بوند جو میرے کان میں ہے 

بن سوچے سمجھے توثیق نہیں کرتا 
کفر وہ شامل جو میرے ایمان میں ہے 

ٹانک دو اس میں اِک مصنوعی تتلی بھی 
کاغذ کا جو گلدستہ گلدان میں ہے 

حجرے میں گر کوئی بات ہوئی تو کیا 
تھوڑا سا شیطان تو ہرانسان میں ہے 

شوق تو یہ ہے آج کے فاتح کہلائیں 
جنگ ابھی تک ماضی کے میدان میں ہے 

پچھلی تحریروں کو بھول کے اے شاعر 
تیرا نیا قصیدہ کس کی شان میں ہے

بُجھ گیا ہے وُہ ستارہ جو مِری رُوح میں تھا



بُجھ گیا ہے وُہ ستارہ جو مِری رُوح میں تھا 
کھو گئی ہے وُہ حرارت جو تِری یاد میں تھی

وُہ نہیں عِشرت ِ آسودگیء منزِل میں 
جو کسک جادہء گُم گشتہ کی اُفتاد میں تھی

دُور اِک شمع لرزتی ہے پس ِ پردہء شب 
اِک زمانہ تھا کہ یہ لَو مِری فریاد میں تھی

ایک لاوے کی دھمک آتی تھی کُہساروں سے 
اِک قیامت کی تپش تیشہء فرہاد میں تھی

ناسِخ ساعت ِ اِمروز کہاں سے لائے 
وُہ کہانی جو نظر بندیء اجداد میں تھی

تُو سمندر ہے تو پھر اپنی سخاوت بھی دکھا


خود سے روٹھوں تو کئی روز نہ خود سے بولوں
پھر کسی درد کی دیوار سے لگ کر رو لوں

تُو سمندر ہے تو پھر اپنی سخاوت بھی دکھا
کیا ضروری ہے کہ میں پیاس کا دامن کھولوں

میں کہ اک صبر کا صحرا نظر آتا ہوں تجھے
تُو جو چاہے تو تیرے واسطے دریا رو لوں

اور معیار رفاقت کے ہیں ، ایسا بھی نہیں
جو محبت سے ملے ساتھ اُسی کے ہو لوں

خود کو عمروں سے مقفل کئے بیٹھا ہوں
وہ جو آئے تو خلوت کدہء جاں کھولوں

Sunday, 30 August 2015

میں تمیں پھر ملوں گی


میں تمیں پھر ملوں گی

کہاں ،کس طرح ، پتہ نہیں

شاید تمہارے تخیل کی سوچ بن کے

تمہارےکینوس پر اُتروں گی

یا شاید تمہارے کینوس کے اوپر

ایک سرمئی سی لکیر بن کے

خاموش تمہیں دیکھتی رہوں گی

یا شاید سورج کی لو بن کر

تمہارے رنگوں میں گھلوں گی

یا رنگوں کی بانہوں میں بیٹھ کر

تمہارےکینوس کو حصار میں لوں گی

پتہ نہیں ، کس طرح ، کہاں

پر تمہیں ضرور ملوں گی

یا شاید ایک چشمہ بنی ہوں گی

جس طرح جھرنوں کا پانی اڑتا ہے

میں پانی کی بوندیں

تمہارے جسم پر ملوں گی

تو ایک ٹھنڈک سی بن کر

تمہارے سینے سے لگوں گی

میں اور کچھ نہیں جانتی

پر اتنا جانتی ہوں

کہ وقت جو بھی کرے گا

یہ زمانہ میرے ساتھ چلے گا

یہ جسم ختم ہوتا ہے

تو سب کچھ ختم ہو جاتا ہے

پر یادوں کے دریچے

کائنات میں کس کے ہوتے ہیں

میں انہیں لوگوں کو چنوں گی

دھاگوں کو بل دیا کروں گی

میں تمہیں پھر ملوں گی

Saturday, 29 August 2015

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں


شبِ فراق کا ہر پل عذاب جیسا ہے


ہیں آنکھیں جھیل سی، چہرہ کتاب جیسا ہے
کہ میرے یار کا ہر نقش خواب جیسا ہے

کسی بھی بات پر اب بھیگتی نہیں آنکھیں
کہ اپنا حال سُوکھے چناب جیسا ہے

یہ آرزو ہے کبھی تو اندھیری شب میں ملے
وہ ایک شخص کہ جو ماہتاب جیسا ہے

یہ سازِ جان تو خاموش ایک عمر سے ہے
اگرچہ لہجہ ابھی تک رباب جیسا ہے

میں اُس کے حسن کی تعریف کس طرح سے کروں؟
وہ آفتاب سا، ماہتاب جیسا ہے

تمھارے بعد میں کس چیز سے لگاؤں دل؟
مری نظر میں سبھی کچھ حباب جیسا ہے

ہر ایک ذرہ چمکدار کیوں نہیں ہوتا؟
ہر ایک ذرہ اگر آفتاب جیسا ہے

کسے سناؤں میں اس دل کی داستاں واثق؟
شبِ فراق کا ہر پل عذاب جیسا ہے

فِگار پاؤں مرے،اشک نارسا میرے


فِگار پاؤں مرے،اشک نارسا میرے
کہیں تو مِل مجھے ،اے گمشدہ خدا میرے

میں شمع کُشتہ بھی تھا،صبح کی نوید بھی تھا
شکست میں کوئی انداز دیکھتا میرے

وہ دردِ دل میں ملا،سوزِجسم و جا ں میں ملا
کہاں کہاں اسے ڈھونڈا جو ساتھ تھا میرے

ہر ایک شعر میں،میں اُس کا عکس دیکھتا ہوں
مری زباں سے جو اشعار لے گیا میرے

سفر بھی میں تھا،مسا فر بھی تھا،راہ بھی میں
کوئی نہیں تھا کئی کوس ما سوا میرے

وفا کا نام بھی زندہ ہے،میں بھی زندہ ہوں
اب اپنا حال سنا ،مجھ کو بے وفا میرے

وہ چارہ گر بھی اُسے دیر تک سمجھ نہ سکا
جگر کا زخم تھا ،نغموں میں ڈھل گیا میرے

آج پھر یاد محبت کی کہانی آئی


ٹھہری ٹھہری ہوئی طبیعت میں روانی آئی
آج پھر یاد محبت کی کہانی آئی

آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑتے دیکھا
آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی

مدّتوں بعد چلا اُن پہ ہمارا جادو
مدّتوں بعد ہمیں بات بنانی آئی

مدّتوں بعد پشیماں ہوا دریا ہم سے
مدّتوں بعد ہمیں پیاس چُھپانی آئی

مدّتوں بعد کھُلی وسعتِ صحرا ہم پر
مدّتوں بعد ہمیں خاک اُڑانی آئی

مدّتوں بعد میسر ہوا ماں کا آنچل
مدّتوں بعد ہمیں نیند سُہانی آئی

اتنی آسانی سے ملتی نہیں فن کی دولت
ڈھل گئی عمر تو غزلوں پہ جوانی آئی

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets