Friday, 5 October 2012

تیرے آنسو میرے دل پر گرتے ہیں



میرے آنسو میرے اندر گرتے ہیں
جیسے دریا بیچ سمندر گرتے ہیں

تیری یادیں وہ طوفان اٹھاتی ہیں
اک اک کر کے سارے منظر گرتے ہیں

کتنی لہریں شعروں میں ڈھل جاتی ہیں
    سوچ کے پانی میںجب پتھر گرتے ہیں      

ہم نے ٹھوکر کھا کر چلنا سیکھا ہے
اور ہیں وہ جو ٹھوکر کھا کر گرتے ہیں

رونے والے ! یہ تجھ کو معلوم نہیں
تیرے آنسو میرے دل پر گرتے ہیں

تم بس اس کا روگ لگا کر بیٹھے ہو
سپنوں کے یہ گھر تو اکثر گرتے ہیں

کات رہا ہے عاطف۔ کوئی آنکھوں میں
تکیے پر یہ خواب جو اکثر گرتے ہیں

No comments:

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets