Friday, 5 October 2012

بھولی بسری ساری باتیں



خواب سجانے والی آنکھیں
پل بھرمیں بنجر ہوجائیں
رستہ تکتے تکتے تھک کر
امیدیں پتھر ہو جائیں
لب پر اگ آئے خاموشی
اور سینے میں حشر بپا ہو
لفظوں کی مالا کا دھاگا
بیچ سے جیسے ٹوٹ گیا ہو
بھولی بسری ساری باتیں
میں بھی شاید یاد بنا لوں
بھول کے اپنے دکھڑے سارے
ہونٹوں پہ مسکان سجا لوں
تم ڈھونڈو پھر مجھ میں مجھ کو
اور میں خود میں گم ہو جاؤں
ایسا بھی تو ہو سکتا ہے
میں بھی اک دن تم ہو جاؤں

No comments:

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets