Friday, 5 October 2012

میں دوستی کے عجب موسموں میں رہتا ہوں



میں دوستی کے عجب موسموں میں رہتا ہوں

کبھی دعاؤں کبھی سازشوں میں رہتا ہوں

جو تم ذرا سا بھی بدلے تو جان لے لو گے!

میں کچھ دنوں سے عجب واہموں میں رہتا ہوں

میں جس طرح سے کبھی دشمنوں میں رہتا تھا

اُسی طرح سے ابھی دوستوں میں رہتا ہوں

قدم قدم پہ ہیں بکھرے ہوئے نقوش مرے

میں تیرے شہر کے سب راستوں میں رہتا ہوں

کیا ہے فیصلہ جب سے چراغ بننے کا!

میں اعتماد سے اب آندھیوں میں رہتا ہوں

تمہارے بعد یہ دن تو گذر ہی جاتا ہے

میں شب کو دیر تلک آنسوؤں میں رہتا ہوں


No comments:

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets