Wednesday, 3 April 2013

مجھے بس اتنا کہنا ہے



تمھیں بھی تو خبر ہو گی
کہ دریا پاس بہتے ہوں
تو پانی اچھا لگتا ہے،

کناروں سے جڑئی مٹی سے پوچھو
روگ چاہت کا
کہ اس پانی کی چاہت میں
کناروں سے اُکھڑ کر
اجنبی دیسوں‌میں جانا
کتنا مشکل ہے
کنارہ پھر نہیں ملتا

مجھے بس اتنا کہنا ہے
یہاں‌جو بھی بچھڑ جائے
دوبارہ پھر نہیں ملتا۔

وہ کر رہا تھا مروت بھی دل لگی کی طرح


کیا ہے جسے پیار ہم نے زندگی کی طرح
وہ آشنا بھی ملا ہم سے اجنبی کی طرح

بڑھا کے پیاس میری اس نے ہاتھ چھوڑ دیا
وہ کر رہا تھا مروت بھی دل لگی کی طرح

کسے خبر تھی بڑھے گی کچھ اور تاریکی
چھپے گا وہ کسی بدلی میں چاندنی کی طرح

کبھی نہ سوچا تھا ہم نے قتیل اس کے لیے
کرے گا ہم پہ ستم وہ بھی ہرکسی کی طرح

Monday, 1 April 2013

وہ میرا محسن مجھے پتھر سے ہیرا کر گیا


اس کے ہر اک رنگ سے مجھ کو شناسا کر گیا
وہ میرا محسن مجھے پتھر سے ہیرا کر گیا

گھورتا تھا میں خلا میں تو سجی تھی محفلیں
میرا آنکھوں کا جھپکنا مجھ کو تنہا کر گیا

ہر طرف اڑنے لگا تاریک سایوں کا غبار
شام کا جھونگا، چمکتا شہر میلا کر گیا

چاٹ لی کرنوں نے میرے جسم کی ساری مٹھاس
میں سمندر تھا، وہ سورج مجھ کو صحرا کر گیا

ایک لمحے میں بھرے بازار سونے ہو گئے
ایک چہرہ سب پرانے زخم تازہ کر گیا

میں اسی کے رابطے میں جس طرح ملبوس تھا
یوں وہ دامن کھینچ کر مجھ کو برہنہ کر گیا

رات بھر ہم روشنی کی آس میں جاگے عدیم
اور دن آیا تو آنکھوں میں اندھیرا کر گیا


یہ جسم تو فانی ہے روحوں کا ملن ہو گا


بارش میں‌جو نکلی میں ماتم کی صدا آئ
نوحہ میرا کہنے کو پر شور ہوا آئ

میں بیچ کے پہنچی ہوں اس دل کی سبھی قدریں
پر لوگ یہ کہتے ہیں بگڑی کو بنا آئی

نقصان تمہارا ہے تم نے نہ سنا کچھ بھی
دلچسب سا قصا تھا غیروں کو سنا آئ

یہ جسم تو فانی ہے روحوں کا ملن ہو گا
یہ جس میں لکھا تم نے وہ خط بھی جلا آئ

میں ہار چکی بازی اس آنکھ مچولی کی
ہر سمت تمہیں ڈھونڈا ہر سمت بلا آئ

دل آج بہت خوش ہے اتنا تو کیا شبنم
خوش 
ذوق سے لوگوں کو کچھ شعر سنا آئ


مجھ کو چھو اور مکمل کردے


منجمد خون میں‌ ہلچل کردے
مجھ کو چھو اور مکمل کردے

کتنی پیاسی ہیں یہ بنجر آنکھیں
ابرزادے ! انہیں جل تھل کردے

میں نے وہ درد چھپا رکھا ہے
جو ترے حسن کو پاگل کردے

سارے انسان ہی وحشی ہیں تو پھر
اس بھرے شہر کو جنگل کردے

اے جھلستے ہوئے جسموں کے خدا
جلتی دوپہر پہ بادل کردے

خوشبو آئی ہے تو لوٹے نہ کبھی 
اب ہوا کو بھی کوئی شل کردے

یا مجھے وصل عطا کر مالک
یا مرا ہجر مکمل کردے


کیمیا گر


کیمیا گر! پرکھ تو سہی
اور پرکھ کر ہمیں بتا
کون سی دھات کے خواب ہیں
جو پگھلتے نہیں اور بکھرتے نہیں خاک پر
کیمیا گر!
ہمارے دکھوں کا مداوا نہ کر
پر ہماری کسی بات پر یوں نہ ہنس
کہ ہماری جگہ ترے آنسو نکل آئیں۔۔۔۔۔۔ہم ہنس پڑیں
کیمیا گر!اگرچہ ہماری مسافت کی گھڑیاں زیادہ نہیں
اور ہمارا بدن بھی تھکن سے نہیں ٹوٹتا
اور آنکھیں بھی زندہ ہیں دل کی طرح
پر ہمیں اس مسافت میں رہنے کے سارے پیچ و خم
کھا گئے۔
دوستوں نے جو ڈالے تھے یہ سوچ کر
کہ ہمیں اپنی منزل سے پہلے تھکن لوٹ لے۔۔۔

کیمیا گر!
ہمارا ھنر دیکھ، ہم نے کٹھن راستوں کے سیہ پتھروں کو
لہو کی اَنی اور نظر کی ہتھوڑی سے کیسے تراشا
کہ اب لوگ ان کو بھی خوابوں کی تعبیر کہنے لگے

کیمیا گر!
زرِ خواب سے آنکھ خالی ہوئی
پاس کچھ بھی نہیں
کچھ پرکھ تو سہی!
کچھ بتا تو سہی!
کون سی دھات کے خوب ہیں
جو پگھلتے نہیں اور بکھرتے نہیں خاک پر۔۔۔


میرے دل پر تیری یاد کا سایا تھا


پھر بھی خوش تھا ،گرچہ میں بے مایا تھا 
میرے دل پر تیری یاد کا سایا تھا 

بانجھ رتوں میں پھول کھلانے والے دوست
میں نے کل تجھے کتنا سمجھایا تھا 

دل کی دھڑکن روتے میں بھی ہنستی تھی 
موسم نے وہ ایک سخن فرمایا تھا 

خون کی بہتی ندیا میں بھی خوابوں کا 
ہر شب ہم نے اک بجرا 
ٹھہرایا تھا 


اب میں اسکے دھیان میں غلطاں پھرتا ہوں 
کل میں جسکو خاطر میں نہ لایا تھا


دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی


دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی
جیسے احساں اتارتا ہے کوئی

آئینہ دیکھ کر تسّلی ہوئی
ہم کو اس کے گھر میں جانتا ہے کوئی

پَک گیا ہے شجر پہ پھل شاید
پھر سے پتھر اچھالتا ہے کوئی

پھر نظر میں لہو کے چھینٹے ہیں
تم کو شاید مغالطہ ہے کوئی

دیر سے گونجتے ہیں سناٹے
جیسے ہم کو پکارتا ہے کوئی


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets