Wednesday, 4 September 2013

میری محبت سے ہار جائو گی۔۔۔


یہ بھی نہیں کہ
میں یاد نا آئوں
میں یاد تو آئونگا
جب بھی محبت کی بات چلے گی
کچھ کہنے لگو گی
کچھ لکھنے لگو گی
تو ایسے میں لمحے بھر کو
یاد کے دروازے پر اک دستک ہوگی
ٹھٹک کر رک جائو گی
سوچو گی
دل دھڑک جائے گا
میرا نام لب پرآئیگا
آنکھ نم ہو جائے گی
سر جھٹک کر
بمشکل مسکرائو گی
پھر سے مجھے بھول جائو گی
مگر ہاں۔۔۔ اتنا تو ہوگا
تم کچھ بھی کہہ نا پائو گی
کچھ لکھ نا پائو گی
لمحہ بھر ہی سہی
میری محبت سے
ہار جائو گی۔۔۔

میری ذات میں شامل ایسا درد ہو تُم


میرے ہر احساس میں سمٹے
میری ذات میں شامل
ایسا درد ہو تُم !
جس کا کوئی نام نہیں

وہ سراپا سامنے ہے ، استعارے مسترد



وہ سراپا سامنے ہے ، استعارے مسترد
چاند ، جگنو ، پھول ، خوشبو اور ستارے مسترد

تذکرہ جن میں نہ ہو اُن کے لب و رُخسار کا
ضبط وہ ساری کتابیں ، وہ شمارے مسترد

کشتیِ جاں کا ہے رشتہ جب کسی طوفان سے
سب جزیرے رائیگاں ، سارے کنارے مسترد

اُس کی خوشبو ہمسفر راہِ مسافت میں ہو گر
خواب ، منظر ، رہگزر ، دریا ، شرارے مسترد

جب کوئی بوئے وفا اُن میں نہیں باقی رہی
ساری سوغاتیں تمھاری ، خط تمھارے مسترد

خاک و خوں کا دیکھنا ہی جب مقدر ہے ظفر
زندگی کے رنگ سارے ، سب نظارے مسترد

Tuesday, 3 September 2013

کہ میں خود تیرے فیصلے کا منتظر ہوں


وہ آٹو گراف بُک کی بجائے ڈائری لے آئی اور کہا
‘ کچھ لکھیئے جو یاد گار ہو!
میں نے کورے کاغذ کو کورا چھوڑ کر
سب سے نچلی سطر پر اپنے دستخط کر دیئے
اور ساتھ لکھا
‘جو بھی اوپر لکھ دو میں اس سے متفق ہوں
کہ میں خود
تیرے فیصلے کا منتظر ہوں

جُدَاَئِیِ کَاَ دُکھ


مَیں نَے تُمهَارِیِ یَادَوں کَو
شِهِر کَے گَلِیِ کُوُچَوُں مَیں تَقسِیم کَر دِیَاَ هَے
تَاَکَہ آَنَےِ جَاَنَےِ وَاَلَےِ لَوگَوُں کِیِ دُهُول
اِنهَیِں دُهُندَلَاَ دَےِ
مَیِں نَےِ تُمهَاَرِیِ مُحَبَّت کَو
بُہُت سَاَرَےِ لَوگَوں مَیِں بَاَنٹ دِیَاَ ہَے
تَاَکَہ رَیَزَه رَیزَه هَو کَر کَمزُور پَڑ جَاَۓِ
اَور مَیںِ نَے خُود کَو
بُہُت سَارِیِ آَنکَهَوں کَے لَیِۓ
اَلَگ اَلَگ حِصَّوں مَیِں تَقسِیم کَر دِیَاَ هَے
تَاَکَہ
جُدَاَئِیِ کَاَ دُکھ
مُجَهَےِ تَلَاَش کَرتَاَ رَهَے
اَور کَبِهِی کاَمیَاب نَہ هَو سَکَےِ

اس سے ملنے کی آرزو تھی بہت


لذّتِ شوق نے سنی کب تھی
ان کہی ایسی ان کہی کب تھی

بس دھواں ہی دھواں تھا پھیلا ہوا
میری آنکھوں میں روشنی کب تھی

کچھ بھی کہنے سے اب میں ڈرتا ہوں
پہلے ایسی بھی بے بسی کب تھی

فصل اگتی بھی کیسے بنجر میں
میرے کھیتوں میں بھی نمی کب تھی

اس سے ملنے کی آرزو تھی بہت
جب وہ آیا تو زندگی کب تھی

سب نگاہوں کا میری دھوکا تھا
کیل تابوت میں لگی کب تھی

درد کیسے میرا سمجھ لیتا
ٹھیس اس کو بھلا لگی کب تھی

رابطے میں اسی کے رہنا ہے
بات اس سے مگر بنی کب تھی

ہم ہی آئے تھے دیر سے عادل
اس کے دینے میں کچھ کمی کب تھی

Sunday, 1 September 2013

وہ جو تھا اپنا گمان آج بہت یاد آیا



 دل جو اک جائے تھی دنیا ہوئی آباد اس میں
پہلے، سنتے ہیں کہ رہتی تھی کوئی یاد اس میں

وہ جو تھا اپنا گمان آج بہت یاد آیا
تھی عجب راحتِ آزادئ ایجاد اس میں

ایک ہی تو وہ مہم تھی جسے سر کرنا تھا
مجھے حاصل نہ کسی کی ہوئی امداد اس میں

ایک خوشبو میں رہی مجھ کو تلاشِ خد و خال
رنگ فصیلیں مری یارو ہوئیں برباد اس میں

باغِ جاں سے تُو کبھی رات گئے گزرا ہے
کہتے ہیں رات میں کھیلیں ہیں پری زاد اِس میں

دل محلے میں عجب ایک قفس تھا یارو
صید کو چھوڑ کے رہنے لگا صیاد اس میں

موسم عشق تیری بارش میں


جانے کیسے سنبھال کر رکھّے
سب اِرادے سنبھال کر رکھے

کُچھ نئے رنگ ہیں محبت کے
کُچھ پرانے سنبھال کر رکھے

موسم عشق تیری بارش میں
خط جو بھیگے سنبھال کر رکھے

جن کی خُوشبو اُداس کرتی تھی
وہ بھی گجرے سنبھال کر رکھےّ


تُجھ سے مِلنے کے اور بچھڑنے کے
سارے خدشے سنبھال رکھے

جب ہوا کا مزاج برہم تھا
ہم نے پتے سنبھال کر رکھے

آرزو کے حسین پنجرے میں
کُچھ پرندے سنبھال کر رکھے

ہم نے دِل کی کتاب میں تیرے
سارے وعدے سنبھال کر رکھے

تیرے دُکھ کے تمام ہی موسم
اے زمانے سنبھال کر رکھے

میرے خوابوں کو راکھ کر ڈالا
اور اپنے سنبھال کر رکھے

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets