Wednesday, 7 October 2015

شیشہ نہ سہی، پتھر بھی نہ تھا، دل ٹوٹ گیا دھیرے دھیرے



ہر شمع بجھی رفتہ رفتہ ، ہر خواب لٹا دھیرے دھیرے
شیشہ نہ سہی، پتھر بھی نہ تھا، دل ٹوٹ گیا دھیرے دھیرے

برسوں‌ میں‌ مراسم بنتے ہیں‌، لمحوں میں‌ بھلا کیا ٹوٹیں گے
تو مجھ سے بچھڑنا چاہے تو دیوار اٹھا دھیرے دھیرے

احساس ہوا بربادی کا جب سارے گھر میں‌ دھول اڑی
آئی ہے ہمارے آنگن میں‌ پت جھڑ کی ہوا دھیرے دھیرے

دل کیسے جلا، کس وقت جلا، ہم کو بھی پتہ آخر میں‌ چلا
پھیلا ہے دھواں‌ چپکے چپکے، سلگی ہے چتا دھیرے دھیرے

وہ ہاتھ پرائے ہو بھی گئے ، اب دور کا رشتہ ہے قیصر
آتی ہے میری تنہائ میں خوشبوئے حنا دھیرے دھیرے

Friday, 2 October 2015

نہ پوچھو حال یاراں شام کو جب سائے ڈھلتے ہیں

تم سے پہلے جو اک شخص

چراغِ عِشق جلانے کی رات آئی ہے



چراغِ عِشق جلانے کی رات آئی ہے
کسی کو اپنا بنانے کی رات آئی ہے

فلک کا چاند بھی شرما کے مُنہ چھپائے گا
نقاب رُخ سے اُٹھانے کی رات آئی ہے

نِگاہِ ساقی سے پیہم چھلک رہی ہے شراب
پیو ! کہ پینے پلانے کی رات آئی ہے 

وہ آج آئے ہیں محفل میں چاندنی لے کر
کہ روشنی میں نہانے کی رات آئی ہے

جمالِ یار محبت کو عام کر دے گا




نقاب اُٹھائے تو دُشمن سلام کر دے گا
جمالِ یار محبت کو عام کر دے گا

یہ دُھوپ ، چھاؤں کے موسم ہیں اُس کی مٹھی میں
اَگر ضَروری لگا ، دِن میں شام کر دے گا

ہے کوہ قاف پہ اُس شوخ گُل کا ذِکر حرام
کہ ننھی پریوں کو یہ بے لگام کر دے گا

طلسمِ مصر ہے اُس کے حسین ہاتھوں میں
جو وُہ بنائے تو چائے کو جام کر دے گا

نہ چھوڑ اِس قَدَر آزاد اَپنی آنکھوں کو
یہ کام تجھ کو کسی کا غلام کر دے گا

تمام رات فقط چاند دیکھتے رہنا
تمہارا کام کسی دِن تمام کر دے گا

غزل ، صنم پہ سبھی لکھتے ہیں مگر مجنوں!
کتاب لکھے گا ، لیلیٰ کے نام کر دے گا

خدا کے واسطے ، اُمید کی حفاظت کر
خدا نے چاہا تو دُشمن بھی کام کر دے گا

اُداس ہو تو غزل اور بھی سناؤں حُضور؟
جو مسکراؤ تو قیس اِختتام کر دے گا۔

اِک موجۂ صہبائے جُنوں تیز بہت ہے



اِک موجۂ صہبائے جُنوں تیز بہت ہے
اِک سانس کا شیشہ ہے کہ لبریز بہت ہے

کچھ دِل کا لہُو پی کے بھی فصلیں ہُوئیں شاداب
کچھ یُوں بھی زمیں گاؤں کی زرخیز بہت ہے

پلکوں پہ چراغوں کو سنبھالے ہوئے رکھنا
اِس ہجر کے موسم کی ہوا تیز بہت ہے

بولے تو سہی، جھوٹ ہی بولے وہ بلا سے
ظالم کا لب و لہجہ دلآویز بہت ہے

کیا اُس کے خدوخال کھلیں اپنی غزل میں
وہ شہر کے لوگوں میں کم آمیز بہت ہے

محسنؔ اُسے ملنا ہے تو دُکھنے دو یہ آنکھیں
کچھ اور بھی جاگو کہ وہ "شب خیز" بہت ہے

تو بھی رخصت ہو رہا ہے دھوپ بھی ڈھلنے کو ہے


تو بھی رخصت ہو رہا ہے دھوپ بھی ڈھلنے کو ہے 
میرے اندر اک چراغ شام غم جلنے کو ہے

کب تلک اس ہجر میں آخر کو رونا چاہیئے ؟
آنکھ بھی خون ہوگئ دامن بھی اب گلنے کو ہے

گلستاں میں پڑ گئی ہے رسم تجسیم بہار
اپنے چہرے پر ہر اک گل ،خون دل ملنے کو ہے

اجنبی سی سرزمیں ناآشنا سے لوگ ہیں
ایک سورج تھا شناسا ،وہ بھی اب ڈھلنے کو ہے

ہر نئی منزل کی جانب صورت ابر رواں
میرے ہاتھوں سے نکل کر میرا دل چلنے کو ہے

شہر پر طوفاں سے پہلے کا سناٹا ہے آج 
حادثہ ہونے کو ہے یا سانحہ ٹلنے کو ہے

اک ہوائے تند اور ہمراہ کچھ چنگاریاں
خاک سی اڑنے کو ہے اور آگ سی جلنے کو ہے

سامنے ہے نیند کی لمبی مسافت آج شب 
کاروان انجم وماہتاب بھی چلنے کو ہے

ہم اہلِ مہر و محبت ہیں، دل نکال کے رکھ



خزانۂ زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھ
ہم اہلِ مہر و محبت ہیں، دل نکال کے رکھ

ہمیں تو اپنے سمندر کی ریت کافی ہے
تُو اپنے چشمۂ بے فیض کو سنبھال کے رکھ

ذرا سی دیر کا ہے یہ عروجِ مال و منال
ابھی سے ذہن میں سب زاویے زوال کے رکھ

یہ بار بار کنارے پہ کِس کو دیکھتا ہے
بھنور کے بِیچ کوئی حوصلہ اُچھال کے رکھ

نہ جانے کب تُجھے جنگل میں رات پڑ جائے
خُود اپنی آگ سے شُعلہ کوئی اُجال کے رکھ

جواب آئے نہ آئے، سوال اُٹھا تو سہی
پِھر اس سوال میں پہلو نئے سوال کے رکھ

تری بلا سے گروہِ جنُوں پہ کیا گُزری
تُو اپنا دفترِ سُود و زیاں سنبھال کے رکھ

چھلک رہا ہے جو کشکولِ آرزو، اس میں
کسی فقیر کے قدموں کی خاک ڈال کے رکھ

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets