ظاہر کسی صورت بھی کہیں نام نہ کرنا
ہیں لوگ بہت خاص ہمیں عام نہ کرنا
جانے کی اجازت تو دیئے دیتےہیں لیکن
رستے میں کہیں آتے ہوے شام نہ کرنا
کچھ روز سے یہ حال ہے فرقت میں تمہاری
بیکار پڑے رہنا کوئ کام نہ کرنا
ہم بھی نہ کھائیں گے سر راە گریباں
تم بھی مرے وعدوں کو سرعام نہ کرنا
اس شرط پہ ہے ترکِ تعلق کی اجازت
بدنام زمانے میں مرا نام نہ کرنا
بدنام نہ کرنا ہمیں اس شہر وفامیں
مشہور کہیں پیار کا پیغام نہ کرنا
یادوں کا نشہ ہوش اڑا دیتا ہے واجد
ساقی سے کہو سامنے اب جام نہ کرنا
No comments:
Post a Comment