Wednesday, 10 October 2012

کچھ روز سے یہ حال ہے فرقت میں تمہاری


ظاہر کسی صورت بھی کہیں نام نہ کرنا
ہیں لوگ بہت خاص ہمیں عام نہ کرنا

جانے کی اجازت تو دیئے دیتےہیں لیکن
رستے میں کہیں آتے ہوے شام نہ کرنا

کچھ روز سے یہ حال ہے فرقت میں تمہاری
بیکار پڑے رہنا کوئ کام نہ کرنا

ہم بھی نہ کھائیں گے سر راە گریباں
تم بھی مرے وعدوں کو سرعام نہ کرنا

اس شرط پہ ہے ترکِ تعلق کی اجازت
بدنام زمانے میں مرا نام نہ کرنا

بدنام نہ کرنا ہمیں اس شہر وفامیں
مشہور کہیں پیار کا پیغام نہ کرنا

یادوں کا نشہ ہوش اڑا دیتا ہے واجد
ساقی سے کہو سامنے اب جام نہ کرنا


No comments:

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets