رونا بھی جو چاہیں تو وہ رونے نہیں دیتا
وہ شخص تو پلکیں بھی بھگونے نہیںدیتا
وہ روز رلاتا ہے ہمیں خواب میں آ کر
سونا بھی جو چاہیں تو وہ سونے نہیںدیتا
یہ کس کے اشارے پہ امڈ آئے ہیں بادل
ہے کون جو بارش کبھی ہونے نہیں دیتا
آتا ہے خیالوں میں میرے کون یہ اکثر
جو مجھ کو کسی اور کا ہونے نہیںدیتا
اس ڈر سے کہیں توڑ کے آنسو نہ بہائیں
بچوں کو میں مٹی کے کھلونے نہیں دیتا
اک شخص ہے ایسا مری بستی میںابھی تک
جو بوجھ اکیلے مجھے ڈھونے نہیں دیتا
میں ہوں کہ بہاتا ہوں تیری یاد میں آنسو
تو ہے کہ مجھے اشک پرونے نہیں دیتا
وہ چہرہ عجب ہے جسے پاکر میں ابھی تک
کھونا بھی جو چاہوں تو وہ کھونے نہیںدیتا
تھامے ہوئے لہروں کی حسن باگ کوئی تو
ساحل کو سمندر میں ڈبونے نہیں دیتا
No comments:
Post a Comment