تم سے بچھڑ کے کام یہ کرنا پڑا ہمیں
پھر آج اپنے آپ سے لڑنا پڑا ہمیں
کچھ مانگنے کے واسطے آیا تھا اک فقیر
کاسے کو آج اشکوں سے بھرنا پڑا ہمیں
پہلے تو اک جہاں کے مقابل میں ڈٹ گئے
آخر میں اپنے سائے سے ڈرنا پڑا ہمیں
چاہت کا حادثہ ہی کہیں سانحہ نہ ہو
بےکار اس خیال میں پڑنا پڑا ہمیں
اک خواب کھوجنے کے لیے بارہا بتول
ان نیند وادیوں سے گزرنا پڑا ہمیں
پھر آج اپنے آپ سے لڑنا پڑا ہمیں
کچھ مانگنے کے واسطے آیا تھا اک فقیر
کاسے کو آج اشکوں سے بھرنا پڑا ہمیں
پہلے تو اک جہاں کے مقابل میں ڈٹ گئے
آخر میں اپنے سائے سے ڈرنا پڑا ہمیں
چاہت کا حادثہ ہی کہیں سانحہ نہ ہو
بےکار اس خیال میں پڑنا پڑا ہمیں
اک خواب کھوجنے کے لیے بارہا بتول
ان نیند وادیوں سے گزرنا پڑا ہمیں
No comments:
Post a Comment