Tuesday, 9 October 2012

تم سے بچھڑ کے کام یہ کرنا پڑا ہمیں



تم سے بچھڑ کے کام یہ کرنا پڑا ہمیں
پھر آج اپنے آپ سے لڑنا پڑا ہمیں

کچھ مانگنے کے واسطے آیا تھا اک فقیر
کاسے کو آج اشکوں سے بھرنا پڑا ہمیں

پہلے تو اک جہاں کے مقابل میں ڈٹ گئے
آخر میں اپنے سائے سے ڈرنا پڑا ہمیں

چاہت کا حادثہ ہی کہیں سانحہ نہ ہو
بےکار اس خیال میں پڑنا پڑا ہمیں

اک خواب کھوجنے کے لیے بارہا بتول
ان نیند وادیوں سے گزرنا پڑا ہمیں

No comments:

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets