Monday, 8 October 2012

آنکھوں میں کوئی خواب رواں یوں ہی رھے گا




دل پر کسی پتھر کا نشاں یوں ہی رھے گا
تا عمر یہ شیشے کا مکاں یوں ہی رھے گا

ھم ٹھہرے رھیں گے کسی تعبیر کو تھامے
آنکھوں میں کوئی خواب رواں یوں ہی رھے گا

ھے دُھند میں ڈوبا ھُوا اس شہر کا منظر
کیا جانئے کب تک یہ سماں یوں ہی رھے گا

کچھ دیر رھے گی ابھی بازار کی رونق
کچھ دیر یہ ھونے کا گماں یوں ہی رھے گا


بجھ جائے گا اِک روز تری یاد کا شعلہ
لیکن مرے سینے میں دُھواں یوں ہی رھے گا

لَو دے تو رھا ھے مرے خوابوں کے اُفق پر
لیکن یہ ستارہ بھی کہاں یوں ہی رھے گا

No comments:

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets