Monday, 8 October 2012

لہو دل کا جلاؤ تم محبت سانس لیتی ہے



لہو دل کا جلاؤ تم محبت سانس لیتی ہے
غزل تازہ سناؤ تم محبت سانس لیتی ہے

مجھے اشعار کی صورت کئی الہام ہونے ہیں
کبھی خوابوں میں آؤتم محبت سانس لیتی ہے

بدن میں روح کی مانند تری انمول سوچوں میں
مجھے دل سے بتاؤتم محبت سانس لیتی ہے

ابھی کچھ وقت باقی ہے ابھی امید قائم ہے
کہیں سے لوٹ آؤتم محبت سانس لیتی ہے

ابھی کچھ رات باقی ہے ابھی سورج نہیں نکلا
ابھی شمعیں جلاؤتم محبت سانس لیتی ہے

ھوا کی حکمرانی ہے ابھی شبنم ہےپھولوں پر
پرندو چہچہاؤتم محبت سانس لیتی ہے

مجھے اس نے لکھا ہے جدائی جس کا موسم
نہیں ارشد ستاؤتم محبت سانس لیتی ہے

No comments:

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets