Wednesday, 10 October 2012

یادوں کی چادر




میں تنہا تو نہیں جاناں
مگر جب بھی پرندوں کو کبھی اُڑتے ہوئے دیکھوں
کبھی تتلی کو پھولوں کے لبوں کو چومتے دیکھوں
ہواؤں پر کبھی بادل کے گورے سے 
ہیولوں کو 

اچانک جھولتے دیکھوں
میں باہر سے سبھی ناتوں کو اس پل توڑ لیتی ہوں
اور آنکھیں موند لیتی ہوں
اور اپنے سر پہ پل بھر کیلئے جاناں
تری یادوں کی چادر اُوڑھ لیتی ہوں

No comments:

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets