Tuesday, 9 October 2012

انجانی لڑکی




سنو انجانی لڑکی تم۔۔۔۔۔
محبت نام نہ لینا
محبت نام ہے جس کا
نہ ہی منزل نہ ہی رستہ
ادھوری داستاں ہے یہ
ادھورے لفظوں کی مانند
بہت سے درد دیتی ہے
محبت کی مسافت میں
اذیت ہی اذیت ہے
فقط تنہائی کا سودا
جودکھ ہی دکھ دیتا ہے
سنو انجانی لڑکی تم۔۔۔۔۔
کبھی اس راہ پر مت چلنا
جہاں کوئی نہیں منزل
جہاں کانٹے ہی کانٹے ہیں
سنو انجانی لڑکی تم۔۔۔۔۔
یہ محبت کچھ نہیں ہے
فقط خوابوں کی کہانی ہے
جوادھورے ہی رہتے ہیں
مسلسل دکھ ہی دیتے ہیں
کبھی پورے نہیں ہوتے
سنو انجانی لڑکی تم۔۔۔۔۔
محبت نام نہ لینا

No comments:

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets