مجھے کوئی نہیں بتاتا
کہ دل جُڑنے کے بعد ٹوٹ کیوں جاتے ہیں
گھنے درختوں سے سنائی دینے والی کوئل کی کُوک،
ہُوک کیسے بن جاتی ہے
جب تنہائی منڈیروں سے آنگن میں اترنے لگتی ہے
تو اپنی ہی باہیں اپنے گلے میں ڈالنے کو جی کیوں چاہتا ہے
مجھے کوئی نہیں بتاتا
پرانے گھروں کے برآمدوں میں اداسی کیوں اونگھتی رہتی ہے
آنگنوں میں بیٹھی رہ جانے والی
لڑکیوں کے سروں میں دھوپ کیسے اتر آتی ہے
اور ان کے نیم تاریک، کمروں میں روشن
آنسوؤں کے دیپ کیوں نہیں بجھتے
مجھے کوئی نہیں بتاتا
کہ بانسری کے چھید چھید سینے سے لہو کیوں ٹپکتا ہے
ایک بار بچھڑ جانے والے دل سے کیوں نہیں جاتے
اور قربتوں کی دھوپ کن گھاٹیوں پر جا اترتی ہے
مجھے کوئی نہیں بتاتا
چڑیاں کیوں چہچہاتی ہیں
ہوا کے دوش پر پھیلتی خوشبو کس کے سندیسے لاتی ہے
مٹھی میں بند کر لینے کے باوجود
جگنو کی روشنی کیوں نہیں چھپتی
محبت کیوں ہو جاتی ہے
No comments:
Post a Comment