Friday, 6 April 2012

پھر یوں ہوا کہ نقشِ قدم تھے کوئی نہ تھا



پھر یوں ہوا کہ نقشِ قدم تھے کوئی نہ تھا
جس راہگذارِ کرب میں ہم تھے کوئی نہ تھا

پُرخار وادیوں کی صدا تھی لہو لہو
برہم مزاج دشتِ ستم تھے کوئی نہ تھا

کچھ لوگ نقش چھوڑ گئے تھے چٹان پر
پتھر پہ چند نام رقم تھے کوئی نہ تھا

ہم غمگسارِ خلقتِ شہر فسردہ تھے
جب ہم اسیرِ رنج و الم تھے کوئی نہ تھا

ماتم کی صف بچھی تھی مگر ماتمی نہ تھے
دیوار و در مرقع غم تھے کوئی نہ تھا

اُس کے جلو میں سنگ زنوں کا ہجوم تھا
بارانِ سنگ و خشت میں ہم تھے کوئی نہ تھا

اشعر جب اُن کا اِسمِ گرامی لکھا گیا
قرطاس تھا نہ لوح و قلم تھے کوئی نہ تھا


Post a Comment
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets