Saturday, 16 February 2013

وقت نے گھاؤ بھر جانا تھا


ہم نے یہ آغاز میں سمجھا

اَب بچھڑے تو مر جائیں گے

تنہائی کے،

قاتل لمحوں کے ہاتھوں سے

آخر کب تک یہ بچ پائیں گے

لیکن جاناں!

جو بھی ہوا ہے

اِس پر سوچو،

کس نے کب تک پچھتانا تھا

وقت نے گھاؤ بھر جانا تھا


Post a Comment
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets