Friday, 7 October 2011

کوئ موسم تو ایسا ہو



کوئ موسم تو ایسا ہو 
کہ جب بچھڑے ہوؤں کی یاد کے جگنو 
چمک کھو دیں ۔۔۔
کسی کے ہجر میں رونے سے پہلے ہی 
میری آنکھیں ۔۔۔ کبھی سو دیں ۔۔۔ 
کوئ موسم تو ایسا ہو کہ جب سب پھول الفت کے 
کسی اَنمٹ محبّت کے 
میرے دل میں کھلیں 
پر 
ان میں وہ خوشبو نہ ہو باقی
“وہ خوشبو ، جو تمہارے قُرب میں مِحسوس ہوتی تھی “


کوئ موسم تو ایسا ہو 
کہ دل کے زخم بھر جائں
اگر ایسا نہیں ہوتا 
تو پھر کتنا ہی اچھا ہو کہ 
ساری خواہشیں دل کی 
وہ سارے خواب اور ارماں
یونہی گھُٹ گھُٹ کے مر جائں
مجھے آزاد کر جائں ۔۔۔ 
کو ئ موسم تو ایسا ہو کہ وہ موسم تمہاری یاد کا موسم نا ہو

No comments:

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets