Thursday, 6 December 2012

کس نے کھیل کھیلا ہے کس نے ہجر جھیلا ہے



کیسے آئے گا تیرے خدوخال کا موسم
قسمتوں میں لکھا ہےجب زوال کا موسم

کس نے کھیل کھیلا ہے کس نے ہجر جھیلا ہے
اب گزر گیا جاناں اس سوال کا موسم

کس طرح سے ممکن تھا ایک شاخ پہ کھلتے
میں کہ ہجر کا لمحہ ، تو وصال کا موسم

دل کے اب تو صحرا ہے اور ایسےصحرا میں
جانے کب تلک ٹھہرے اب ملال کا موسم

آج تک بھی ٹھہرا ہے دل کی رہگزاروں پر
تیرے لمس کا ،تیرے خدوخال کا موسم

ہم کبھی تو دیکھیں گے وحشتوں کے صحرا میں
اےخدا محبت کے اعتدال کا موسم

No comments:

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets