Sunday, 15 September 2013

آج نہ چاہتے ہوئے بھی وہ یاد آیا بہت


آج اس کی یاد نے ہمیں تڑپایا بہت
آج نہ چاہتے ہوئے بھی وہ یاد آیا بہت

اس کے بعد تو جیسے وحشتوں سے دوستی ہو گئی
پھر کیوں آج تنہایوں نے ڈرایا بہت

وہ میرا تھا، میرا ہے، میرا رہے گا
ہم نے اس خیال سے خود کو بہلایا بہت

شمع کے جلنے پر ہم افسوس کریں کیوں
ہم نے بھی مانندِ شمع خود کو جلایا بہت

ہم نے جس کسی کو بھی ہمدرد سمجھا ‘عاصم‘
وہ ہمارے دکھ پہ نہ جانے کیوں مسکرایا بہت
Post a Comment
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets